پرتگال کی حکومت کی جانب سے سنہ 2026 کے لیے پاکستان سمیت غیر یورپی ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا اور امیگریشن قوانین میں اہم تبدیلیاں متعارف کروائی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی پرتگال کیوں جانا چاہتے ہیں؟
ان تبدیلیوں کا مقصد امیگریشن نظام کو سخت اور منظم بنانا ہے تاکہ صرف قانونی اور ہنرمند افراد کو کام اور رہائش کی اجازت دی جا سکے۔
واضح رہے کہ اکتوبر 2025 میں پرتگال کا پرانا جاب سیکر ویزا سرکاری طور پر ختم کر دیا گیا تھا۔ جس ویزا کے ذریعے لوگ بغیر نوکری کے پرتگال جا کر وہاں ملازمت تلاش کر سکتے تھے مگر نئے قانون کے تحت یہ سہولت اب مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے اور اس سے متعلق تمام اپوائنٹمنٹس بھی منسوخ ہو چکی ہیں۔
پرتگال نے جاب سیکر ویزا کی جگہ ایک نیا ہائیلی اسکلڈ ورک ویزا متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جو صرف ان افراد کے لیے ہوگا جو اعلیٰ تعلیم، تکنیکی مہارت یا پیشہ ورانہ تجربہ رکھتے ہوں گے۔ مگر اس نئے ویزا کے مکمل قواعد، شرائط اور درخواست کا طریقہ کار ابھی تک سرکاری طور پر جاری نہیں کیا گیا۔
اسی طرح وہ قانون بھی ختم کر دیا گیا ہے جس کے تحت لوگ سیاحتی ویزا پر پرتگال جا کر نوکری حاصل کرنے کے بعد اپنی رہائش کو قانونی بنا لیتے تھے۔ یہ راستہ، جسے پہلے مانیفیسٹاسیاؤ دی انٹریس کہا جاتا تھا، دسمبر 2025 کے اختتام پر مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستانیوں کے لیے خوشخبری، پرتگال نے ورک ویزے جاری کرنے کا اعلان کردیا
نئے قوانین کے مطابق اب کسی بھی غیر یورپی شہری کو پرتگال میں کام کرنے کے لیے پہلے باقاعدہ نوکری کی آفر لینا لازمی ہوگا۔ اس کے بعد ہی اپنے ملک سے پرتگال کے ورک ویزا یا متعلقہ رہائشی ویزا کے لیے درخواست دی جا سکے گی۔ بغیر جاب آفر کے ورک ویزا حاصل کرنا اب ممکن نہیں رہے گا۔
تاہم پرتگال میں کچھ دیگر ویزا کیٹیگریز اب بھی دستیاب ہیں جن میں ورک ویزا، بزنس یا سیلف ایمپلائمنٹ ویزا اور ڈیجیٹل نومیڈ ویزا شامل ہیں لیکن ان تمام ویزوں کے لیے سخت شرائط اور مکمل دستاویزات جمع کرانا ضروری ہوں گے۔
یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ پرتگال کی حکومت نے پاکستان کے لیے کسی الگ یا خصوصی ویزا اسکیم کا اعلان نہیں کیا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کئی خبریں مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں جبکہ اصل میں یہ قوانین تمام غیر یورپی ممالک کے شہریوں پر یکساں طور پر لاگو ہوں گے۔
نئے امیگریشن قوانین کے تحت پرتگال اب صرف ان افراد کو قانونی داخلہ اور کام کی اجازت دے گا جو ہنرمند ہوں، درست طریقے سے ویزا حاصل کریں اور جعلی ایجنٹس یا غیر قانونی راستوں سے بچیں۔ عوام کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ کسی بھی فیصلے سے پہلے سرکاری ذرائع سے معلومات کی تصدیق ضرور کریں۔
پرتگال میں کس قسم کی نوکریاں دستیاب ہیں؟
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق غیر ملکیوں خاص طور پر غیر یورپین یونین شہریوں کے لیے سب سے زیادہ مواقع آئی ٹی اور ڈیجیٹل سیکٹر میں ہیں جہاں فل اسٹیک ڈویلپرز بیک اینڈ اور فرنٹ اینڈ ڈویلپرز کے علاوہ سائبر سیکیورٹی اینالسٹس کی ضرورت ہے اور تنخواہ عام طور پر 2200 سے 5000 یورو ماہانہ تک ہوتی ہے۔
ہیلتھ کیئر سیکٹر میں نرسز ڈاکٹرز اور سوشل ورکرز کی خالی جگہیں سب سے زیادہ ہیں جو غیر ملکیوں کے لیے اچھے مواقع فراہم کرتی ہیں۔
مزید پڑھیں: پرتگال کو 50 ہزار اسکلڈ لیبر کی فوری ضرورت، پاکستانیوں کے لیے کیا مواقع ہیں؟
کنسٹرکشن کے شعبے میں ویلڈرز الیکٹریشنز اور جنرل ورکرز کی مانگ ہے جہاں تنخواہ 1250 سے 2300 یورو ماہانہ تک رہتی ہے۔ رینیوایبل انرجی میں سولر پی وی انسٹالرز اور ونڈ ٹربائن ٹیکنیشنز جیسے رولز دستیاب ہیں اور تنخواہ 1600 سے 2700 یورو ماہانہ تک ہو سکتی ہے۔
ہاسپیٹیلٹی اور ٹورزم سیکٹر میں ہوٹل اسٹاف کیٹرنگ ورکرز اور سیزنل جابز بہت زیادہ ہیں جو اکثر غیر ہنر مند یا نیم ہنر مند غیر ملکیوں کے لیے موزوں ہوتے ہیں۔
ایگریکلچر میں فارم ورکرز اور متعلقہ ٹریڈز کی ضرورت ہے جو سیزنل بنیاد پر زیادہ ہوتی ہے۔
دیگر سیکٹرز جیسے بزنس سپورٹ سینٹرز ایڈمنسٹریٹو سپورٹ اور ایجوکیشن میں بھی مواقع موجود ہیں۔
پرتگال کو پاکستانیوں کا ہاٹ اسپاٹ کیوں سمجھا جاتا ہے؟
غیرملکی افراد پرتگال میں سب سے زیادہ ورک ویزا کے لیے اپلائی کرتے ہیں کیونکہ بیشتر افراد خصوصاً نوجوان تعلیم کے حصول کے لیے دیگر یورپی ممالک کا رخ کرتے ہیں جہاں پرتگال سے زیادہ بہتر تعلیمی مواقع موجود ہیں لیکن سرمایہ کاری، ملازمت اور پی آر کے لیے لوگ پرتگال کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پرتگال کے نئے سولیڈیریٹی گولڈن ویزا سے کون فائدہ اٹھا سکتا ہے؟
پاکستانیوں کے لیے سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ پرتگال غیرملکیوں کو جلد ہی پی آر دے دیتا ہے۔ یعنی پی آر حاصل کرنے کے بعد پاکستانی شہری کسی بھی شینگن ملک میں جاسکتے ہیں اور اچھا کما سکتے ہیں۔ دیگر شینگن ممالک کا پی آر دینے کا طریقہ کار پرتگال کے مقابلے میں کافی مشکل ہے یہی وجہ ہے کہ پرتگال جانے والے پاکستانیوں کو 5 سال مکمل ہونے پر نیشنیلٹی کارڈ مل جاتا ہے۔














