واشنگٹن ڈی سی میں قائم چینی سفارت خانے نے ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو جاری کی ہے جس میں امریکا پر چین کے ساتھ تجارت اور ٹیکنالوجی کے معاملے میں دوہرے معیار اپنانے کا طنز کیا گیا ہے۔
خبر کی اہمیت
چین اور امریکا کے درمیان اسٹریٹجک کشیدگی بدستور برقرار ہے، جس میں تجارت سے لے کر تائیوان تک متعدد حساس معاملات شامل ہیں۔
واشنگٹن نے چین کی جانب سے بھاری سرکاری سبسڈی کے تحت برآمد کی جانے والی مصنوعات، خصوصاً الیکٹرک گاڑیوں، پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کمزور اندرونی طلب کے باعث عالمی منڈی میں رسد کا شدید دباؤ پیدا ہو رہا ہے۔
中国驻美国大使馆发布AI视频:美国炒作"中国冲击"其实"见不得人崛起"
The Chinese Embassy in the United States released an AI video: Another "#China shock".
The U.S. hype around the "China shock" actually reveals its "inability to bear seeing others rise."@ChineseEmbinUS pic.twitter.com/ylnkzN1k1v— Beijing Daily (@DailyBeijing) January 8, 2026
امریکا نے قومی سلامتی کے خدشات کے تحت جدید چِپس کی چین کو فراہمی پر سخت پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ ان کا فوجی استعمال ممکن ہے۔
بیجنگ ان اقدامات کو اپنی معاشی ترقی کو روکنے کی کوشش قرار دیتا ہے اور امریکا پر ’دھونس‘ کا الزام عائد کرتا ہے۔ چین نے جواباً اپنی مضبوط پوزیشن، خصوصاً دنیا کے بیشتر نایاب معدنیات پر گرفت، کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا ‘اے آئی ایکشن پلان’ کا اعلان، کیا امریکا چین کی مصنوعی ذہانت میں ترقی سے خوفزدہ ہے؟
چینی سفارت خانے نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر ایک ایک منٹ کی میوزک ویڈیو شیئر کی جس کا عنوان ’بریکنگ نیوز: ایک اور چائنا شاک‘ تھا۔
ویڈیو میں امریکا کو سوٹ پہنے، ہِپ ہاپ انداز میں گاتے ہوئے ایک گنجے عقاب کے طور پر دکھایا گیا ہے، جو مائیکروفون میں پریشانی کے عالم میں گاتا ہے کہ ’ اوہ نہیں، یہ پھر ہو رہا ہے۔ چین نے ایک اور زبردست چیز بنا لی ہے، میرے دوست۔‘
مزید پڑھیں: امریکا چین سے کیوں الجھنا نہیں چاہتا؟
’جب ہم آگے بڑھتے ہیں تو اسے ’ترقی، واہ‘ کہا جاتا ہے، اور جب چین آگے بڑھے تو وہ ’اوور کیپیسٹی‘ کہلاتی ہے۔‘
اس کے برعکس، چین کو ایک محنتی دیو قامت پانڈا کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو کمپیوٹر پر کوڈنگ کرتے ہوئے، جدید الیکٹرک گاڑیوں کی اسمبلی لائن کی نگرانی کرتے ہوئے، سولر پینلز پر فوٹو وولٹائیک سیلز نصب کرتے ہوئے، انسان نما روبوٹس کے پس منظر میں ریکارڈر بجاتے ہوئے، اور ایک ہیوی لفٹ راکٹ کی لانچ دیکھتے ہوئے مختلف مناظر میں دکھائی دیتا ہے۔
گیت کے اختتام پر مصرع آتا ہے کہ اصل چائنا شاک؟ ’انہیں ہمارا اوپر اٹھنا برداشت نہیں۔‘
پس منظر
’چائنا شاک‘ کی اصطلاح پہلی بار 2001 کے بعد استعمال ہوئی، جب چین کے عالمی تجارتی تنظیم یعنی ڈبلیو ٹی او میں شامل ہونے کے بعد سستی چینی مصنوعات کی یلغار نے عالمی منڈیوں اور کئی ممالک کی مینوفیکچرنگ معیشتوں کو شدید متاثر کیا۔
حالیہ برسوں میں جدید مینوفیکچرنگ، گرین انرجی، بیٹریوں، الیکٹرک گاڑیوں اور دیگر ہائی ٹیک صنعتوں میں چین کی تیز رفتار پیش رفت نے واشنگٹن میں ’چائنا شاک 2.0‘ کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ردِعمل
مزید پڑھیں: وینزویلا رجیم چینج، کیا امریکا ایک گہری دلدل میں پھنس رہا ہے؟
امریکا-چین اقتصادی و سلامتی جائزہ کمیشن کی کمشنر لیویا شماوونین نے جون میں کانگریس کی ایک سماعت کے دوران کہا کہ چینی حکومت محض اتفاقاً مینوفیکچرنگ میں غلبہ حاصل نہیں کر رہی، بلکہ یہ ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
’چین کا تجارتی سرپلس 5 برس میں دگنا ہو چکا ہے، جسے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی صنعتی مسابقت کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘
آگے کیا ہوگا؟
امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گزشتہ سال دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے بعد شدت اختیار کر گئی تھی، اکتوبر میں جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں ہونے والے ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن اجلاس کے موقع پر صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد کسی حد تک نرم پڑی ہے۔
تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا دونوں عالمی طاقتیں کسی جامع معاہدے تک پہنچ پائیں گی یا مختلف محاذوں پر موجود گہرے ساختی اختلافات برقرار رہیں گے۔













