ٹرمپ انتظامیہ نے انسداد بدعنوانی کے لیے نیشنل اینٹی فراڈ ڈویژن قائم کردیا

جمعہ 9 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا میں مبینہ فراڈ کے خلاف کارروائی کے لیے محکمہ انصاف کے تحت نیا نیشنل اینٹی فراڈ ڈویژن قائم کر دیا ہے۔ یہ اعلان 8 جنوری 2026 کو کیا گیا، جس کا مقصد وفاقی سطح پر فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات سے نمٹنا بتایا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق نیا ڈویژن وفاقی فوجداری اور دیوانی قوانین کے تحت ایسے فراڈ کے خلاف کارروائی کرے گا جو وفاقی سرکاری پروگرامز، وفاقی فنڈ سے چلنے والی سہولتوں، کاروباری اداروں، غیر منافع بخش تنظیموں اور عام شہریوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس ڈویژن کے قیام کا مقصد امریکا بھر میں مبینہ طور پر پھیلتے فراڈ کے مسئلے پر قابو پانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی شہروں کو ’جنگی میدان‘ قرار دے کر نیشنل گارڈ تعینات کر دیے

دوسری جانب انسانی حقوق اور امیگریشن سے وابستہ حلقوں نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ فراڈ کے الزامات کو امیگرنٹس اور سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں انتظامیہ نے ریاست مینیسوٹا کو خصوصی طور پر ہدف بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ فلاحی نظام اور سماجی خدمات کے پروگرامز میں امیگرنٹس کے ذریعے بڑے پیمانے پر فراڈ کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے مینیسوٹا میں مقیم صومالی کمیونٹی پر بھی سخت تنقید کی ہے، جو امریکا کی سب سے بڑی صومالی کمیونٹی سمجھی جاتی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے چند محدود واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور اسے وفاقی اختیارات کے ناجائز استعمال کے لیے جواز بنایا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ کی پیدائشی امریکی شہریت کا حق محدود کرنے کی کوشش، سپریم کورٹ سے نظرثانی کی درخواست

اسی تناظر میں حال ہی میں ٹرمپ انتظامیہ نے کیلیفورنیا، کولوراڈو، الینوائے، مینیسوٹا اور نیویارک کو فراہم کیے جانے والے 10 ارب ڈالر سے زائد کے وفاقی چائلڈ کیئر اور خاندانی معاونت کے فنڈز منجمد کرنے کا اعلان کیا، جس کی وجہ مبینہ فراڈ کے خدشات بتائے گئے۔

بعد ازاں ان ریاستوں نے اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت مختلف معاملات پر دباؤ ڈالنے کے لیے فنڈنگ روکنے کی دھمکی دے رہی ہے، جن میں ڈیموکریٹس کے زیر انتظام ریاستوں کے پروگرامز، تنوع سے متعلق اقدامات اور غزہ میں اسرائیلی کارروائی کے خلاف یونیورسٹیوں میں ہونے والے مظاہرے شامل ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق نئے ڈویژن کے لیے تعینات اسسٹنٹ اٹارنی جنرل وفاقی حکومت، وفاقی فنڈڈ پروگرامز اور نجی شہریوں کو متاثر کرنے والے فراڈ کی تحقیقات، مقدمات اور تدارک کی نگرانی کریں گے، جبکہ وہ اٹارنی جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو بڑے اور اثر انگیز فراڈ کیسز سے متعلق پالیسی امور پر مشاورت بھی فراہم کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی تیز رفتار ملک بدری پالیسی روک دی

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ محکمہ انصاف اس وقت مینیسوٹا کے متعدد پروگرامز میں مبینہ فراڈ سے متعلق سرگرم اور وسیع تحقیقات کر رہا ہے، جن میں فیڈنگ آور فیوچر، ہاؤسنگ اسٹیبلائزیشن سروسز اور ابتدائی ترقیاتی و رویہ جاتی مداخلت کے پروگرامز شامل ہیں۔

ان کیسز میں اب تک 98 افراد پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے، جن میں 85 افراد کا تعلق صومالی پس منظر سے بتایا گیا ہے، جبکہ 64 ملزمان کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔

اسی دوران محکمہ داخلی سلامتی نے مینیسوٹا میں تقریباً 2000 اہلکار تعینات کر دیے ہیں، جو مبینہ فراڈ سے متعلق مشتبہ مقامات پر گھر گھر جا کر تحقیقات کر رہے ہیں۔

علاوہ ازیں محکمہ صحت و انسانی خدمات نے بھی مینیسوٹا سمیت ڈیموکریٹس کے زیر انتظام 5 ریاستوں میں مزید 10 ارب ڈالر کی فنڈنگ روک دی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp