شور کی آلودگی ایک ’خاموش قاتل‘ بن گئی، شہری شدید ذہنی دباؤ کا شکار

پیر 12 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

روشنیوں کا شہر کراچی جہاں اپنی رونقوں کے لیے مشہور ہے، وہیں اب یہ شہر بے ہنگم شور اور صوتی آلودگی کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔

ماہرینِ ماحولیات کے مطابق شہر کے بیشتر علاقوں میں شور کی سطح بین الاقوامی معیار (85 ڈیسیبل) سے کہیں زیادہ تجاوز کر چکی ہے، جو شہریوں کی سماعت اور ذہنی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

مزید پڑھیں: مائیکروپلاسٹکس انسانی صحت کے لیے کس قدر خطرناک ہیں؟

ڈاکٹر بلال عارف کے مطابق شہر کی سڑکوں پر موجود پریشر ہارنز، رکشوں کے پھٹے ہوئے سائلنسرز اور خستہ حال بسیں شور کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ ٹریفک جام کے دوران غیر ضروری ہارن بجانا ایک نفسیاتی مسئلہ بن چکا ہے۔

بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے باعث تجارتی مراکز اور رہائشی علاقوں میں بڑے اور چھوٹے جنریٹرز کا بے تحاشا استعمال ہوتا ہے، جو مسلسل کان پھاڑنے والی آواز پیدا کرتے ہیں، رہائشی علاقوں میں بغیر کسی حفاظتی تدابیر کے جاری تعمیراتی کام اور بھاری مشینری کا استعمال شہریوں کے سکون کو برباد کررہا ہے۔

بازاروں میں گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیے لاؤڈ اسپیکرز کا استعمال اور شادی ہالز میں دیر رات تک جاری موسیقی بھی صوتی آلودگی میں اضافہ کررہی ہے۔

ڈاکٹر بلال عارف نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل شور میں رہنے سے کراچی کے شہریوں کو قوتِ سماعت میں کمی، ہائی بلڈ پریشر، امراضِ قلب، چڑچڑاپن، نیند کی کمی اور شدید ذہنی دباؤ کا سامنا ہے۔

’شہریوں نے حکومت سے اہم مطالبات کردیے‘

ماہرین اور شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر درج ذیل اقدامات کیے جائیں تو اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے:

ٹریفک پولیس اور محکمہ ماحولیات کو پریشر ہارنز اور دھواں و شور چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کرنے کی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ گرین لائن اور ریڈ لائن جیسے ماس ٹرانزٹ منصوبوں کی تکمیل سے نجی گاڑیوں اور رکشوں کا استعمال کم ہوگا، جس سے شور میں کمی آئے گی۔

سڑکوں کے کنارے زیادہ سے زیادہ درخت لگانا شور کو جذب کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ درخت قدرتی ’ساؤنڈ بیریئرز‘ کا کام کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں پلاسٹک انسانی صحت اور قدرتی ماحول کس طرح تباہ کر رہاہے؟

رہائشی علاقوں کو تجارتی اور صنعتی شور سے محفوظ رکھنے کے لیے زوننگ کے قوانین پر سختی سے عمل کرایا جائے۔

اسکولوں اور میڈیا کے ذریعے شہریوں میں یہ شعور اجاگر کرنا ضروری ہے کہ ہارن کا غیر ضروری استعمال نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ دوسروں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp