لاہور ہائی کورٹ نے آوارہ کتوں کو فائرنگ اور زہر کے ذریعے مارنے کے خلاف دائر درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔
عدالت نے پنجاب حکومت، سیکرٹری لائیوسٹاک، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سمیت دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ جسٹس خالد اسحاق نے عزت فاطمہ ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر درخواست پر سماعت کی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ آوارہ کتوں کے نام پر آپریشن سے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی میں آوارہ کتوں کا راج، حفاظتی اقدامات کیا ہو سکتے ہیں اور حکومت کیا کر رہی ہے؟
درخواست میں خانیوال میں ڈاگ کلنگ آپریشن کے دوران گولی لگنے سے کمسن بچی کے زخمی ہونے کا واقعہ بھی اجاگر کیا گیا۔ مزید کہا گیا کہ رہائشی علاقوں میں فائرنگ اور زہریلی اشیا کا استعمال خطرے سے خالی نہیں۔
درخواست میں یہ بھی موقف اختیار کیا گیا کہ پنجاب حکومت اینیمل برتھ کنٹرول پالیسی 2021 پر عملدرآمد نہیں کر رہی۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ آوارہ کتوں کو فائرنگ اور زہر کے ذریعے مارنے سے روکے اور ویکسینیشن و نیوٹرنگ پالیسی پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔













