جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے علما اس بات پر متفق ہیں کہ اب کوئی مسلح جنگ نہیں ہونی چاہیے، مسلح گروہوں کو بھی اس معاملے پر غور کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: خوشامدی سیاست کے قائل نہیں ہیں، حق بات کریں گے، مولانا فضل الرحمان
لاہور میں کنونشن سے خطاب میں انہوں نے انٹرنیٹ پر پھیلنے والی جھوٹی خبروں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ کسی کی منفی باتیں تلاش کرنا شریعت کے خلاف ہے، ہر بات میں حقائق اور سچائی ہونی چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ ہم کسی کے دل میں زبردستی اعتماد نہیں ڈال سکتے، سیاست اور نظریات وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، اور موجودہ وفاقی و صوبائی حکومتیں منتخب نہیں ہیں۔ گالیوں کی سیاست بدبودار اور بدنام ہو چکی ہے۔
انہوں نے حکومت سے شکوہ کرتے ہوئے کہاکہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو بحث کے لیے پیش نہیں کیا جا رہا۔
سربراہ جے یو آئی نے وزیرستان میں گزشتہ ایک سال میں 3 علما کے قتل کی بھی نشاندہی کی اور کہاکہ ہم سفاک قاتلوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے دینی مدارس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ طلبہ کو تعلیم اور رہائش کے ساتھ فراہم کرتے ہیں، جبکہ حکومت آج اسکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جو حالیہ غیر منطقی اقدامات ہو رہے ہیں وہ دین اسلام کے خلاف ہیں۔
مزید پڑھیں: 2024 کے الیکشن شفاف نہیں تھے، فضل الرحمان نے ملک میں نئے انتخابات کا مطالبہ کردیا
انہوں نے مزید کہاکہ جب کوئی تنقید کرتا ہے تو وہ اپنی کمزوری تلاش کرتے ہیں اور اسے سنجیدگی سے لیتے ہیں۔














