آج کل عالمی میڈیا دیکھنے کا خاصا موقعہ مل رہا ہے۔ باہر کے اخبارات اب 90، 95 فیصد سبسکرپشن پر جاچکے ہیں۔ بڑےاخبارات کی خبر 2، 4 سطروں کے بعد 20، 30 ڈالر کی ماہانہ سبسکرپشن لیے بغیر نہیں دیکھی جاسکتی۔ اب یہ تو ہمارے لیے ممکن نہیں کہ ایک خبر پڑھنے کے لیے 9، 10 ہزار روپے خرچے جائیں۔ سو صبر شکر سے آگے بڑھ جاتے تھے۔ اب یہ ہوا کہ بعض کرم فرماؤں نے واٹس ایپ گروپ بنائے ہیں جن میں بہت سےاخبارت کی پی ڈی ایف شیئر کی جاتی ہیں۔ ہم جیسوں کا فائدہ ہوگیا ہے۔
سوشل میڈیا، خاص کر ایکس پر بھی بہت سا اچھا مواد میسر آجاتا ہے۔ اس کے لیے مگر ضروری ہے کہ امریکا اور یورپ کے تجزیہ کاروں کو فالو کیا جائے تاکہ بہت کچھ وہ بھی ہم پڑھ سکیں جو روٹین میں سامنے نہیں آتا۔
آج کے کالم میں امریکا کے وینزویلا پر حملے اور اس کے بعد دنیا بھر میں جہاں جہاں اس کے جارحانہ عزائم ہیں، اس حوالے سے 3 مختلف اینگل پیش کرنا چاہ رہا ہوں۔ ایک خود امریکی صدر کا موقف ہے، دوسرا وہاں کا جنہوں نے امریکی حملہ حال ہی میں بھگتا ہے، جبکہ تیسرا رخ اینٹی امریکا اور پرو چائنہ تجزیہ کاروں کا ہے۔ یہ تجزیہ مختلف ہے، مگر اس سے صورتحال زیادہ بہتر اور متوازن انداز میں سمجھ آجاتی ہے۔
پہلا رخ
چند دن قبل نیویارک ٹائمز نے صدر ٹرمپ کا پینل انٹرویو کیا، اس میں ٹرمپ نے کھلی ڈلی بے لاگ باتیں کی ہیں۔ کسی لگی لپٹی کے بغیر اپنے عزائم کھل کر بیان کیے۔ انٹرویو قدرے طویل ہے، مانچسٹر میں مقیم تجزیہ کار ڈاکٹر اسامہ شفیق نے اس کی اچھی سمری بنائی۔
صدر ٹرمپ نے وینزویلا اور گرین لینڈ کے حوالے سے جن عزائم کا ذکر کیا، وہ خبر کے طور پر چھپ چکے ہیں، اس میں سب سے اہم امریکی صدر کی ڈھٹائی اور دنیا بھر کی پروا نہ کرنا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے سوال کیا، ’کیا امریکی فوجی طاقت کے استعمال پر کوئی حد ہے؟‘ صدر ٹرمپ کا جواب تھا، ’ہاں، ایک چیز ہے۔ میری اپنی اخلاقیات۔ میرا اپنا ذہن۔ بس یہی واحد چیز ہے جو مجھے روک سکتی ہے۔ مجھے بین الاقوامی قانون کی ضرورت نہیں۔ میں کسی بین الاقوامی قانون، ضابطے، توازن یا نگرانی سے خود کو پابند محسوس نہیں کرتا‘۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے خیال میں سابق امریکی صدور امریکی طاقت کے استعمال میں حد سے زیادہ محتاط رہے ہیں۔
وینزویلا کے بارے میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا، ’توقع ہے کہ امریکا برسوں تک وینزویلا کو چلائے گا اور اس کے وسیع تیل کے ذخائر سے تیل نکالے گا۔ ملک کی عبوری حکومت جو اب قید میں موجود نکولس مادورو کے وفاداروں کے زیرِ اثر ہے ہمیں وہ سب کچھ دے رہی ہے جو ہمیں ضروری محسوس ہوتا ہے۔ ہم وینزویلا کو انتہائی منافع بخش انداز میں دوبارہ تعمیر کریں گے۔ ہم تیل استعمال کریں گے اور تیل لیں گے۔ ہم تیل کی قیمتیں کم کررہے ہیں، اور ہم وینزویلا کو پیسہ دیں گے جس کی انہیں اشد ضرورت ہے‘۔
گرین لینڈ کے بارے میں صدر ٹرمپ ایک چیز کے بارے میں کلیئر نظر آئے کہ ملکیت بہت اہم ہے۔ ٹرمپ کی باتوں سے لگ رہا تھا کہ وہ گرین لینڈ پر قبضے سے کم کسی بات پر راضی نہیں ہوں گے، حتیٰ کہ وہ اس کے لیے نیٹو کو بھی داؤ پر لگانے کا رسک لے سکتے ہیں۔
دوسرا رخ
مغربی میڈیا میں ایک رپورٹ وینزویلا کے ایک سیکیورٹی گارڈ کے حوالے سے آئی ہے، وہ صدر مادورو کو اغوا کرنے کے امریکی آپریشن کے وقت صدارتی بلڈنگ میں موجود تھا اور اس کا امریکی فوجیوں سے ٹکراؤ ہوا تھا۔ یہ رپورٹ نیویارک کے معروف اخبار نیویارک پوسٹ اور سنڈے گارجین نے بھی شائع کی، کئی بڑے مغربی سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے بھی یہ شیئر ہوئی ہے۔
وینزویلین گارڈ کے مطابق امریکی حملے سے پہلے وینزویلن ریڈار سسٹم اچانک بند ہوگئے۔پھر چند ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز نمودار ہوئے اور 20، 25 امریکی فوجی اترے۔ ان کے پاس جدید ترین ہتھیار تھے۔ انہوں نے ایسی تیز رفتاری اور درستی کے ساتھ فائرنگ کی کہ وینزویلین صدر کے محافظ ہکا بکا رہ گئے۔ وہ لوگ ایسی تیزی سے فائرنگ کررہے تھے جیسے فی منٹ 300 راونڈ چلائے جار ہے ہوں۔ حملہ اس قدر غیر متوقع، تیز اور شدید تھا کہ محافظین جواب دیے بغیر ڈھیر ہوتے گئے۔
اس گارڈ نے ایک بہت خوفناک اور حیران کن بات بتائی۔ اس کے مطابق امریکی فوجیوں نے کوئی ایسا ہتھیار استعمال کیا جس سے ہم سب کو شدید دھچکا لگا اور یوں لگا جیسے سر اندر سے دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا ہو۔ بیشتر فوجیوں کے ناک سے خون بہنے لگا، کچھ نے خون کی الٹیاں بھی کیں۔ ہم لوگ اس دھچکے سے حرکت بھی نہ کرسکے اور کئی منٹ تک مفلوج پڑے رہے۔
اس ہتھیار پر امریکی سوشل میڈیا اور میڈیا میں بھی گفتگو ہوتی رہی۔ نیویارک پوسٹ نے بعض ماہرین سے بھی بات کی۔ ان کے مطابق یہ الٹراسونک ہتھیار یا مائیکرو ویو ہتھیار ہوسکتا ہے۔ بعض نے اسے ڈائریکٹڈ انرجی ویپن کا نام بھی دیا۔ ابھی کنفرم نہیں کہ یہ کون سا ہتھیار تھا اور اس کا کیا مکینزم ہے۔ یہ ایک گارڈ کا دعویٰ ہے جو ظاہر ہے تصدیق شدہ نہیں۔ نیویارک پوسٹ نے ایک دلچسپ بات یہ بھی بتائی کہ اس طرح کا ایک ہتھیار 3، 4 سال قبل چین نے بھارتی فوجیوں پر بھی استعمال کیا تھا جب گلوان میں دونوں فوجوں کا ٹکراؤ ہوا۔
وینزویلین گارڈ کا کہنا ہے کہ اس لڑائی سے اندازہ ہوگیا کہ ہمارا ان امریکی فوجیوں سے کوئی موازنہ یا مقابلہ نہیں تھا۔ ان کے پاس جیسی جدید ترین ٹیکنالوجی ہے، اس سے لڑنا ممکن ہی نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ لاطینی امریکا میں خوف پھیلا ہے کیونکہ لوگوں کو خدشہ ہے اب اگلا ہدف کولمبیا یا میکسیکو وغیرہ ہوسکتے ہیں۔
تیسرا رخ
تیسرا زاویہ دراصل ایک مختلف نقطہ نظر ہے جو پرو چائنا اور اینٹی امریکا اوپن سورس اور ایکس اکاونٹس وغیرہ سے شیئر ہورہا ہے۔
اس کا نچوڑ یہ ہے: ’امریکا اب تمام تر کوشش کے باوجود چین کو لاطینی امریکا سے باہر نہیں کرسکتا۔ جب ٹرمپ لاطینی امریکا کو ’واپس لینے‘، مونرو ڈاکٹرائن کی بحالی اور وینزویلا، پاناما، برازیل سمیت پورے براعظم کو دوبارہ واشنگٹن کے خصوصی دائرۂ اختیار میں لانے کی بات کرتے ہیں، تو بہت سے لوگ اب بھی اسے طاقت کی علامت سمجھتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ طاقت نہیں،کمزوری کا انکشاف ہے۔
صرف وہی شخص میز الٹتا ہے جس کے پاس کھیلنے کے لیے پتے ختم ہوچکے ہوں اور صرف دیوالیہ ہونے کے قریب جواری ہی ڈکیتی کی طرف جاتا ہے۔ اگر امریکی پابندیاں اب بھی مؤثر ہوتیں، اگر ڈالر کی بالادستی جوں کی توں برقرار ہوتی، اگر سیاسی دباؤ، مالی جنگ اور سفارتی تنہائی آج بھی نتائج دے رہی ہوتیں تو واشنگٹن کو خود کیچڑ میں اترنے کی ضرورت پیش نہ آتی، نہ اغوا کی دھمکیاں، نہ رجیم چینج کے خواب اور نہ ہی وسائل کو کھلے عام ’ضمانت‘ کے طور پر لینے کی باتیں۔ یہ مسلز دکھانا نہیں یہ ایک زوال پذیر سلطنت کی آخری چمک ہے۔
’جب امریکا لاطینی امریکا کے اس علاقے کو دیکھتا ہے جسے وہ اپنا عقبی صحن سمجھتا ہے تو یہاں پر چینی کرینیں بندرگاہوں پر کنٹینر لادتی دکھائی دیتی ہیں۔ چینی بجلی کے گرڈ، ٹیلی کام نظام، سڑکیں اور ریلوے لائنیں روزمرہ زندگی کے نیچے خاموشی سے کام کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ نظریے سے زیادہ طاقتور چیز ہے۔ یہ انفراسٹرکچر ہے یعنی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اور انفراسٹرکچر حکم دینے سے غائب نہیں ہوجاتا۔ لاطینی امریکا سے چین کو نکالنے کا مطلب انفراسٹرکچر کو اکھاڑنا اور کئی کمزور معیشتوں کو منہدم کرنا ہے۔‘
یہ صرف تیل کا معاملہ نہیں
’پرو چین اوپن سورسز کے مطابق امریکا خود اپنی بیلنس شیٹ کے ہاتھوں گھرا ہوا ہے۔ صرف آنے والے ایک سال میں ہی واشنگٹن کو میچور ہوجانے والی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے تقریباً 5 ٹریلین ڈالر کا نیا حکومتی قرض جاری کرنا ہوگا۔ مگر اب کم سے کم ممالک ایسے ہیں جو بڑے پیمانے پر امریکی قرض خریدنے کو تیار ہوں۔ عالمی کموڈٹی تجارت آہستہ آہستہ ڈی ڈالرائز ہورہی ہے۔ اسی وجہ سے امریکا نے اب برکس ممالک کو بھی کھلی دھمکی دے ڈالی ہے۔
اگر امریکا کو اپنے ہی ٹریژری بانڈز خریدنے کے لیے نوٹ چھاپنا پڑے، تو افراطِ زر قابو سے باہر ہوجائے گی۔ یہ راستہ اختیار نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لیے واشنگٹن میں اب ایک سادہ نظریہ جنم لے رہا ہے۔ حقیقی اثاثوں کے بڑے ذخائر پر کنٹرول حاصل کیا جائے۔ تیل، گیس، نایاب معدنیات، انہیں دوبارہ ڈالر کے ساتھ جوڑا جائے اور مادی پشت پناہی کے ذریعے اعتماد بحال کیا جائے۔ وینزویلا، گرین لینڈ، لاطینی امریکا۔ کاغذوں میں وینزویلا کے تیل کے ذخائر کی مالیت دسیوں ٹریلین ڈالر بنتی ہے۔ حقیقت میں، وینزویلا کے تیل کو اس طرح کیش میں بدلنا آسان نہیں۔
وینزویلا کا خام تیل دنیا کے مشکل ترین آئل میں شامل ہے
یہ نہایت بھاری، گہرائی میں دبا ہوا اور اس کی نکاسی، پراسیسنگ اور ترسیل کے لیے انتہائی جدید انفراسٹرکچر درکار ہے۔ دنیا میں صرف دو ممالک ایسے ہیں جن کے پاس اس درجے کی تکنیکی اور صنعتی صلاحیت موجود ہے یعنی چین اور امریکا۔
چین یہ کام پہلے ہی کرچکا ہے۔ چین وینزویلا کے تقریباً 70 فیصد تیل کا خریدار ہے۔ چین ہی نے وہ انفراسٹرکچر فنانس کیا، تعمیر کیا اور چلایا جس کے بغیر یہ تیل قابلِ استعمال اور قابلِ برآمد نہیں۔ اگر چین کو نکال دیا جائے تو اس کی جگہ کون لے گا؟ امریکی آئل کمپنیاں شیورون، ایکسون موبل، کونیکو فلپس؟ ان کے پاس اس بات کی کوئی ترغیب نہیں کہ وہ 5 سال میں 100 ارب ڈالر ایسے منصوبوں پر لگا دیں جنہیں سیاسی ہوا بدلتے ہی دوبارہ قومی تحویل میں لیا جاسکتا ہو۔
یہ رسک خودکشی کے مترادف ہے۔ فرض کریں کہ امریکی کمپنیاں آ بھی جائیں، تو وہ تیل بیچیں گی کس کو؟ اس قسم کے خام تیل کا واحد خریدار چین ہے۔ اتنا بڑا، اتنا صابر اور تکنیکی طور پر ہم آہنگ۔
اگر چین کو زبردستی وینزویلا سے نکالا گیا اور پابندیوں کے ذریعے باہر دھکیلا گیا، تو جواباً ردعمل ناگزیر ہوگا۔ سپلائی چین متاثر ہوں گی۔ منڈیاں بند ہوں گی۔ پابندیاں دونوں طرف چلیں گی۔ یوں واشنگٹن کا وینزویلا سے متعلق خواب اپنی ہی معاشی منطق کے بوجھ تلے بکھر جاتا ہے۔
امریکا ناممکن کا خواب دیکھ رہا ہے
ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ چین نے لاطینی امریکا کے ساتھ محض تجارت نہیں کی اس نے اس پورے خطے کی ساخت ازسرِنو ترتیب دی ہے۔ بندرگاہیں، سڑکیں، ریلویز، بجلی کے گرڈ، ٹیلی کمیونی کیشن نیٹ ورکس، ان میں سے بہت سے نظام اب اسمارٹ، خودکار اور دُور سے کنٹرول ہونے والے ہیں۔
پیرو کی چینکائے بندرگاہ اس تبدیلی کی سب سے واضح مثال ہے۔ اس کے فعال ہوتے ہی جنوبی امریکا اور ایشیا کے درمیان بحری راستے ہفتوں کم ہوگئے اور وہ گزرگاہیں بھی بائی پاس ہوگئیں جو امریکی کنٹرول میں تھیں۔
یہ ایسی ڈاکس نہیں جن پر محض قبضہ کرکے انہیں نئے ہاتھوں میں دے دیا جائے۔ یہ چین کے تعمیر کردہ، گہرے طور پر مربوط ایکو سسٹم ہیں۔ چین کو نکالنے سے ملکیت تبدیل نہیں ہوتی، نظام کام کرنا بند کردیتا ہے۔ یہی وہ بنیادی مسئلہ ہے جس کا سامنا واشنگٹن کرنے سے انکار کررہا ہے۔ وہ تجارت روکنے کی کوشش نہیں کررہا۔ وہ ایک آپریٹنگ سسٹم اَن انسٹال کرنا چاہتا ہے۔ ایسا کرنے سے لاطینی امریکا کی معیشتیں مفلوج ہوجائیں گی۔
مونرو ڈاکٹرائن آج مس فٹ ہے
جس کے پاس سب سے بڑا صارفین کا بازار ہو، قیمتوں پر اختیار اسی کے پاس ہوتا ہے۔ لاطینی امریکا کے کسان، کان کن اور برآمد کنندگان اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ واشنگٹن کو ناراض کریں تو زندگی مشکل ہوسکتی ہے اور اگر چین کو ناراض کریں تو منڈی ہی غائب ہوجاتی ہے۔ یہ نظریہ نہیں بقا ہے۔ لاطینی امریکا میں چین کی موجودگی بظاہر تجارت لگتی ہے۔
حقیقت میں یہ زرہ (armor) کا کام کرتی ہے۔ جب مفادات اس حد تک جڑ جائیں تو انہیں زبردستی الگ کرنے کی ہر کوشش خود کو نقصان پہنچانے کے مترادف بن جاتی ہے۔ مونرو ڈاکٹرائن توپ بردار جہازوں کے دور کے لیے لکھی گئی تھی۔ یہ سپلائی چینز کی دنیا ہے اور اس دنیا میں چین پہلے ہی اس قدر گہرائی سے پیوست ہے کہ اسے نکالنے کی کوشش پورے نظام کو چیر دینے کے سوا کچھ نہیں کرے گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













