سیینئر صحافی ارشد شریف کے قتل سے متعلق کیس وفاقی آئینی عدالت میں آخری مراحل میں داخل ہو گیا، جہاں عدالت نے کیس نمٹانے کا عندیہ دے دیا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس معاملے پر مناسب حکم جاری کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ارشد شریف قتل کیس، وفاقی حکومت نے آئینی عدالت میں پیشرفت رپورٹ جمع کروا دی
عدالت نے تفتیش کی رفتار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ تفتیشی عمل کافی سست رہا ہے، تاہم عدالت کسی پر براہِ راست الزام عائد نہیں کرنا چاہتی کہ اس تاخیر کا ذمہ دار کون ہے۔
سماعت کے دوران ارشد شریف کی بیوہ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کیس میں سو موٹو نوٹس کی بنیاد پر کمیشن قائم کیا گیا تھا اور تفتیش تاحال جاری ہے۔
Resolving the Arshad Sharif case is therefore essential not only for justice for his family, but also for signaling a genuine commitment to ending impunity for crimes against journalists.
Read: https://t.co/hSDMiys9lj pic.twitter.com/oS4Tjh9qm8
— Pakistan Press Foundation (@Pakistan_Press) January 13, 2026
جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کینیا میں اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے؟
وکیل نے بتایا کہ ارشد شریف قتل کیس میں کینیا کی عدالت سے رجوع کیا گیا تھا، جہاں فیصلہ ان کے حق میں آیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کینیا کی عدالت سے یہ استدعا کی گئی تھی کہ واقعے کو محض ایک حادثہ نہیں بلکہ قتل قرار دے کر باقاعدہ تفتیش کرائی جائے۔
مزید پڑھیں:پشاور یونیورسٹی کا شعبہ صحافت ارشد شریف سے منسوب، خیبرپختونخوا یونین آف جرنلسٹس کا احتجاج
جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا، تاہم اب تک کینیا میں بھی تفتیش میں کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
وکیل کے مطابق پاکستان کی حکومت سے بھی یہی درخواست ہے کہ وہ اس معاملے میں متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہو اور اسی مقصد کے تحت عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور متاثرہ خاندان کے مؤقف اور اپروچ میں واضح فرق ہے۔
مزید پڑھیں: ارشد شریف قتل کی تحقیقات کیوں رکی ہوئی ہیں؟
دوسری جانب ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ ارشد شریف قتل کیس کی جے آئی ٹی رپورٹ پہلے ہی عدالت میں پیش کی جا چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابتدا میں کینیا حکومت نے تفتیش میں تعاون سے انکار کیا تھا، تاہم گزشتہ سال ستمبر میں دونوں ممالک کے درمیان میوچوئل لیگل اسسٹنس کا معاہدہ طے پایا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق جیسے ہی کینیا حکومت مزید تفتیش کے لیے کہے گی، پاکستان اپنی تفتیشی ٹیم جائے وقوعہ پر بھیجنے کے لیے تیار ہے اور کینیا کی جانب سے فراہم کیے گئے شواہد کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: عمران خان کو ارشد شریف کے قتل کا پہلے سے علم تھا، فیصل واوڈا آڈیو ٹیپ منظر عام پر لے آئے
جسٹس عامر فاروق نے سوال اٹھایا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے بعد اب عدالت اس کیس میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے۔
جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس مرحلے پر پاکستان کینیا میں جاری تفتیش میں معاونت کر سکتا ہے۔
سماعت کے دوران عمران فاروق قتل کیس کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ عمران فاروق کا قتل بھی بیرونِ ملک، انگلینڈ میں ہوا تھا، جہاں انگلش پولیس اور پاکستان کی تفتیشی ٹیم نے مل کر تحقیقات کی تھیں۔
تاہم ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران فاروق اور ارشد شریف قتل کیس کی نوعیت مختلف ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ارشد شریف قتل کیس میں چالان جمع کرایا جا چکا ہے اور 2 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ کیا دونوں ملزمان کینیا میں گرفتار ہیں، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے وضاحت کی کہ ملزمان اس وقت کینیا میں موجود ہیں۔
مزید پڑھیں:ارشد شریف کیس: ریاست نے سپریم کورٹ کے سامنے جرم تسلیم کر لیا، جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس
ان کے بلیک وارنٹ جاری کیے جا چکے ہیں اور گرفتاری انٹر پول کے ذریعے ممکن ہے، جس کے لیے انٹر پول کو خط بھی لکھ دیا گیا ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مزید بتایا کہ پاکستان میں تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور وزیر اعظم نے خود کینیا کے صدر سے اس معاملے پر ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ کیس کی تفتیش جلد از جلد مکمل کی جائے۔














