قیادت محض اقتدار کا نام نہیں، یہ دراصل تاریخ کے ساتھ ایک مکالمہ ہوتی ہے۔ کچھ رہنما وقت کو اپنے تابع کر لیتے ہیں اور کچھ وقت کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
ڈاکٹر مہاتیر محمد اور عمران خان اسی دوسری صف کے لوگ ہیں وہ جو رائج نظام سے سمجھوتہ نہیں کرتے، بلکہ اسے سوال بناتے ہیں۔ یہی سوال انہیں عوام میں مقبول اور طاقتور حلقوں میں ناپسندیدہ بنا دیتا ہے۔
مہاتیر محمد کو تاریخ نے یہ مہلت دی کہ وہ ایک نسبتاً مستحکم ریاست میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہیں۔ انہوں نے ریاستی طاقت کو نظم میں بدلا، اداروں کو اپنے وژن کے تابع کیا اور قوم کو ایک واضح منزل دی۔
عمران خان کو مگر ایک ایسی ریاست ملی جو خود فیصلہ کرنے کی اہلیت کھو چکی تھی۔ ایسے حالات میں ان سے وہی نتائج مانگنا جو مہاتیر نے دہائیوں میں دیے، فکری دیانت کے خلاف ہے۔
فلسفۂ سیاست ہمیں بتاتا ہے کہ اصل امتحان نیت کا نہیں بلکہ مزاحمت کا ہوتا ہے۔ افلاطون کا فلسفی بادشاہ اقتدار کا خواہاں نہیں ہوتا بلکہ اقتدار اس پر مسلط ہو جاتا ہے۔ عمران خان اسی تصور کے قریب دکھائی دیتے ہیں وہ سیاست میں فائدے کے لیے نہیں آئے، اسی لیے وہ بار بار اس نظام سے ٹکرائے جو فائدہ بانٹنے پر قائم تھا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ مہاتیر محمد پر آمرانہ طرزِ حکمرانی، اظہارِ رائے کی پابندیوں اور عدلیہ سے کشیدگی جیسے الزامات لگتے رہے۔ یہ ان کے سیاسی ورثے کا متنازع پہلو ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مگر اسی طرح یہ بھی سچ ہے کہ انہوں نے ذاتی مفاد کو ریاست پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ عمران خان پر بھی انتظامی کمزوریوں اور ناتجربہ کار ٹیم کا اعتراض کیا گیا، مگر ان پر ذاتی کرپشن یا خاندانی سیاست کا کوئی سنجیدہ داغ نہیں لگا۔
کرپشن کے باب میں عمران خان کا مقدمہ اخلاقی طور پر زیادہ مضبوط دکھائی دیتا ہے۔ وہ ایک ایسے نظام میں اصلاح چاہتے تھے جو سمجھوتوں کے بغیر چل ہی نہیں سکتا۔ ان کی بعض سیاسی مجبوریاں ان کے بیانیے سے مطابقت نہیں رکھتیں، مگر اس تضاد کی جڑ فرد نہیں بلکہ نظام ہے۔ اصول پسند آدمی اس نظام میں یا تو ٹوٹتا ہے یا باہر ہو جاتا ہے،م اور عمران خان اقتدار سے باہر کر دیے گئے۔
خارجہ پالیسی میں مہاتیر محمد کو یہ برتری حاصل رہی کہ انہیں ریاستی تسلسل اور ادارہ جاتی حمایت میسر تھی۔ انہوں نے آئی ایم ایف کو ’نو‘ کہا اور تاریخ نے ثابت کیا کہ وہ فیصلہ درست تھا۔
عمران خان نے بھی خوددار خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی چاہے وہ “Absolutely Not” ہو یا مسلم دنیا کے لیے آواز، مگر ان کے خیالات کو عمل میں ڈھلنے سے پہلے ہی روک دیا گیا۔ نیت دونوں کی یکساں تھی، اختیار یکساں نہیں تھا۔
یہ عمران خان کا بڑا فکری کارنامہ ہے کہ انہوں نے پاکستانی عوام، خصوصاً نوجوان نسل کو یہ احساس دلایا کہ سیاست تقدیر نہیں، اختیار ہے۔ انہوں نے طاقتور طبقات کو عوامی سوال بنایا۔ مہاتیر محمد نے قوم کو ترقی دی، عمران خان نے قوم کو شعور دیا۔ تاریخ میں بعض اوقات شعور ترقی سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے، کیونکہ شعور ہی آنے والی ترقی کا راستہ بناتا ہے۔
اقبال کے اسلوب میں اگر کہا جائے تو عمران خان اس مردِ درویش کی طرح ہیں جو شاہی محل میں بھی فقیر رہتا ہے۔
اقبال نے کہا تھا:
’جس خاک کے ضمیر میں ہے آتشِ چنار
ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاکِ ارجمند‘
عمران خان کی سیاست اسی ’آتشِ سوال‘ کا نام ہے، وہ سوال جو خاموش ہو جائے تو قومیں زندہ لاش بن جاتی ہیں۔ ان کا جرم یہی تھا کہ وہ سوال کرتے رہے۔
ارسطو کہتا ہے کہ اچھی ریاست اچھے شہری پیدا کرتی ہے، اور اچھے شہری اچھی ریاست۔ عمران خان نے شاید ریاست کو نہیں بدلا، مگر شہری کو بدل دیا۔ آج پاکستانی نوجوان طاقت سے خوفزدہ نہیں، سوال سے شرمندہ نہیں، اور اختلاف سے معذرت خواہ نہیں اور یہ تبدیلی کسی ایک دورِ حکومت سے بہت بڑی ہے۔
92 برس کی عمر میں مہاتیر محمد کی واپسی ایک اخلاقی علامت ضرور تھی، مگر عملی طور پر وہ دور پہلے جیسا مؤثر ثابت نہ ہو سکا۔ اس کے برعکس عمران خان اقتدار سے نکلنے کے بعد زیادہ مضبوط بیانیہ بن کر سامنے آئے۔ یہ تاریخ کا عجیب تضاد ہے کہ ایک اقتدار میں کمزور ہوا، دوسرا اقتدار سے باہر طاقتور۔
اگر کہا جائے کہ مہاتیر محمد ملائیشیا کا عمران خان ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھی اصولوں پر اڑ جانے والے اور اشرافیہ کے لیے ناگوار تھے۔ اور اگر عمران خان کو پاکستان کا مہاتیر محمد کہا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھی ایک وژن رکھنے والا رہنما ہے جسے ابھی تاریخ نے پورا موقع نہیں دیا۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ عمران خان مہاتیر محمد بن سکے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کبھی اپنے مہاتیر یا اپنے عمران کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہو سکے گا؟
کیونکہ اصل المیہ رہنماؤں کی کمی نہیں، اصل المیہ قوموں کا اپنے سچ سے خوف ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












