پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے واضح کیا ہے کہ 8 فروری کو ہونے والے احتجاج کی کال بانی پی ٹی آئی عمران خان کی نہیں بلکہ اپوزیشن اتحاد کی جانب سے دی گئی ہے۔
علیمہ خان نے اپنے وکیل فیصل ملک کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے عدلیہ کی آزادی کے لیے پرامن احتجاج کی ہدایت دی تھی، تاہم آواز اٹھانے پر ہی انہیں جیلوں میں ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: 8 فروری احتجاج کی کال، پی ٹی آئی پنجاب کی کارکنوں کے لیے ہدایات جاری
انہوں نے مزید کہاکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان ملک میں قانون کی بالادستی چاہتے ہیں اور کبھی یہ نہیں کہا کہ میرے لیے باہر نکلیں۔ اگر عدالتوں سے انصاف مل رہا ہوتا تو ان کی یہ حالت نہ ہوتی۔ اڈیالہ جیل کے باہر قرآن خوانی کو بھی جرم قرار دیا جا رہا ہے۔
علیمہ خان نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو غیر قانونی طور پر قید تنہائی میں رکھا گیا، اور گزشتہ رات جب وہ گھر واپس جا رہی تھیں تو روات تھانے کے ایس ایچ او نے ان کے افراد کو گرفتار کیا اور کئی گاڑیاں قبضے میں لے لیں۔
انہوں نے کہاکہ 3 خواتین کارکنان کو گرفتار کیا گیا اور 8 سے زیادہ گاڑیاں اٹھا لی گئیں، ہر کارکن سے 5 لاکھ روپے تاوان طلب کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ گاڑیاں چھڑوانے کے لیے پولیس کو پیسے دینے پڑے، عدلیہ کو آزاد کرنے کے لیے نکلنے والے افراد کو ہی جیل میں ڈالا جا رہا ہے۔
علیمہ خان نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے کچھ کتابیں عدالت کو دی گئی ہیں اور عدالت نے ان کتابوں کو جیل میں پہنچایا۔
مزید پڑھیں: 8 فروری کو احتجاج کی کال: حکومت کا پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کافیصلہ
انہوں نے واضح کیا کہ 8 فروری کی کال اپوزیشن اتحاد کی جانب سے دی گئی ہے، عمران خان کی نہیں، اور بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سہیل آفریدی کو اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کی ہدایت دی تھی۔













