بنگلہ دیش کے شہر فینی میں جولائی کی عوامی تحریک کے دوران ایک کالج طالب علم کے قتل کے مقدمے میں عدالت نے سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ اور دیگر اعلیٰ سیاسی شخصیات کے خلاف وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:حسینہ واجد حکومت میں ریاستی تشدد، سابق آرمی چیف ضیاءالاحسن کیخلاف گواہی دیں گے
بنگلہ دیشی خبر رساں اداروں کے مطابق فینی کی ایک عدالت نے بدھ کے روز معزول سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ سمیت 171 افراد کے خلاف وارنٹِ گرفتاری جاری کیے۔ یہ احکامات فینی کے سینیئر جوڈیشل مجسٹریٹ محمد حسن نے مقدمے کی چارج شیٹ منظور کرتے ہوئے جاری کیے۔
مقدمے میں سابق عوامی لیگ کے جنرل سیکریٹری عبیدالقدر، سابق وزیرِ داخلہ اسد الزمان خان کمال، فینی۔2 سے رکنِ پارلیمنٹ نظام الدین ہزاری اور فینی۔3 سے رکنِ پارلیمنٹ مسعود الدین بھی نامزد ملزمان میں شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق 31 جولائی 2025 کو فینی ماڈل تھانے کے سب انسپکٹر اور مقدمے کے تفتیشی افسر عالمگیر حسین نے 221 افراد کے خلاف چارج شیٹ عدالت میں جمع کرائی تھی، جس میں متعدد بااثر سیاسی شخصیات اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے نام بھی شامل تھے۔
یہ مقدمہ کالج طالب علم محبوب الحسن معصوم کی ہلاکت سے متعلق ہے، جو 7 اگست 2024 کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا تھا۔ معصوم 3 روز قبل جولائی کی عوامی تحریک کے دوران فائرنگ سے شدید زخمی ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:وائٹ پیپر جاری: حسینہ واجد دور میں ٹیلی کام بدانتظامی اور بدعنوانی بے نقاب
معصوم کے بھائی محمد محمود الحسن نے فینی ماڈل تھانے میں 162 نامزد اور 400 سے 500 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔ پولیس کے مطابق اب تک اس کیس میں 39 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جب کہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔














