امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی قومی سلامتی ٹیم کو آگاہ کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی گئی تو وہ ایسی ہونی چاہیے جو تیزی سے اور فیصلہ کن انداز میں اثر دکھائے۔
امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ کسی غیر یقینی اور طویل عسکری تصادم کے حق میں نہیں، جو ہفتوں یا مہینوں پر محیط طویل جنگ میں بدل جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران بحران: مظاہرین کے قتل پر امریکا مداخلت کرسکتا ہے، ٹرمپ کی وارننگ
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے مشیروں نے ابھی تک اس بات کی ضمانت نہیں دی کہ امریکی حملے کی صورت میں ایرانی حکومت فوری طور پر کمزور یا ختم ہو جائے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ امریکی انتظامیہ کو اس خدشے کا بھی سامنا ہے کہ خطے میں موجود فوجی وسائل فی الحال ایران کے ممکنہ سخت ردعمل سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر کافی نہیں۔
⚡️Trump has told advisers that any U.S. military action against Iran must be swift, decisive, and avoid a prolonged war.
Advisers have not been able to guarantee that a strike would quickly collapse the Iranian regime, raising concerns about retaliation and U.S. readiness in the… pic.twitter.com/kJSkITk115
— The Global Monitor (@theglobal4u) January 15, 2026
انہی وجوہات کے باعث اگر صدر ٹرمپ فوجی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہیں تو ابتدا میں محدود نوعیت کے حملوں کی منظوری دی جا سکتی ہے، جبکہ حالات کے مطابق کارروائی میں وسعت کا راستہ کھلا رکھا جائے گا۔
تاہم امریکی حکام کے مطابق صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
این بی سی نیوز سکے مطابق صدر ٹرمپ اس مؤقف پر قائم ہیں کہ امریکا ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔
مزید پڑھیں: امریکا نے حملہ کیا تو اسرائیل اور امریکی اڈے محفوظ نہیں رہیں گے، ایران کی ٹرمپ کو دھمکی
ان کے قریبی افراد کے مطابق اگر صدر کوئی قدم اٹھاتے ہیں تو وہ چاہتے ہیں کہ اس کا نتیجہ واضح اور حتمی ہو۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں کہا ہے کہ ایران میں جاری احتجاجی تحریک کے باعث حکومت کمزور ہو سکتی ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک میں اقتدار کا خاتمہ یقینی نہیں ہوتا۔ انہوں نے ایران کے معزول شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کے بارے میں بھی شکوک کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیں: ایران-اسرائیل جنگ سے ٹرمپ کو دور رہنا چاہیے، امریکا کے اندر سے آوازیں اٹھنا شروع
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں قابلِ اعتماد ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ ایران میں مظاہرین کے خلاف ہلاکتیں رک گئی ہیں اور ممکنہ پھانسیوں کا منصوبہ بھی مؤخر کر دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق یہی وہ اقدامات تھے جو امریکی فوجی ردعمل کا سبب بن سکتے تھے، تاہم امریکا فی الحال صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
امریکی حکام کے مطابق پینٹاگون نے صدر ٹرمپ کی ہدایات کی روشنی میں مختلف فوجی آپشنز تیار کر لیے ہیں، جنہیں حالیہ دنوں میں مزید بہتر اور اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران-اسرائیل کشیدگی پر ڈونلڈ ٹرمپ کی ماگا تحریک منقسم ہوگئی
ان منصوبوں میں ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی، امریکی افواج، اتحادی ممالک اور خاص طور پر اسرائیل کو لاحق خطرات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
خطے میں احتیاطی اقدامات کے تحت قطر میں واقع امریکی فضائی اڈے العدید سے سینکڑوں امریکی فوجیوں کو عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران میں امن بحال، لوگوں کو پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں، وزیر خارجہ
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات فوجیوں، شہریوں اور ان کے اہلِ خانہ کے تحفظ کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
اگرچہ امریکا نے ایران کے خلاف کسی بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی کے لیے اضافی افواج تعینات نہیں کیں، تاہم خطے میں موجود امریکی فضائی، بحری اور زمینی وسائل محدود یا ہدفی حملوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔













