اقوام متحدہ میں پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے تحمل، ذمہ دارانہ رویے اور طاقت کے استعمال سے گریز کی اپیل کی ہے، اور مسائل کے پرامن حل کے لیے فوری سفارتی کوششوں پر زور دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا سے معاہدہ کرنے کے لیے ’بے تاب‘ ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ تنازعات کا حل بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق صرف پرامن ذرائع سے ہونا چاہیے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یکطرفہ اقدامات، مسلسل محاذ آرائی اور طاقت کا استعمال نہ صرف مسائل کے حل سے دنیا کو مزید دور لے جائے گا بلکہ غیر ضروری انسانی نقصان کا بھی باعث بنے گا۔
Statement by Ambassador Asim Iftikhar Ahmad,
Permanent Representative of Pakistan
At the Security Council Briefing under Agenda
“The Situation in the Middle East” (Iran)
(15 January 2026)
***********Thank you, Mr. President,
I thank Assistant Secretary General Martha Pobee… pic.twitter.com/58tBItqvaw
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) January 15, 2026
سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے صورتحال مزید بگڑے گی اور علاقائی و عالمی امن و استحکام کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان ایران اور خطے میں حالیہ پیشرفت کو بغور دیکھ رہا ہے اور موجودہ بلند سطح کی کشیدگی میں امن کے لیے ابھرتے خطرات تشویشناک ہیں۔
پاکستانی مندوب نے ایران کو پاکستان کا قریبی ہمسایہ اور برادر ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط مضبوط ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران میں حالات جلد معمول پر آئیں گے اور پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے تمام سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک مستحکم اور پرامن ایران پاکستان، خطے اور عالمی برادری کے مفاد میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کے اطاعت کے مطالبے کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا رہے گا، آیت اللہ خامنائی
انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قانون کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی کی اجازت نہیں دیتا، جبکہ ریاستوں کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت بھی قانون کے منافی ہے۔
سفیر عاصم افتخار نے تمام فریقین سے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ سفارت کاری اور مکالمہ ہی تمام متنازع امور کے حل کا واحد راستہ ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ پہلے سے عدم استحکام کے شکار خطے میں تصادم کے بجائے رابطے اور مذاکرات کی پالیسی کی مسلسل حمایت کرتا ہے۔

دوسری جانب امریکا نے ایران سے متعلق مزید پابندیوں کا اعلان کیا ہے، جن میں ایرانی حکام اور مالی نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ امریکی قیادت کی جانب سے سخت بیانات نے خطے میں تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔
پاکستان نے اس تناظر میں تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کی جائے اور پائیدار حل کے لیے مذاکرات کی میز پر واپسی اختیار کی جائے۔













