پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کے روز تیز خریداری کا رجحان لوٹ آیا، جس کے نتیجے میں ابتدائی سیشن میں کے ایس ای100 انڈیکس میں 3,300 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔
دوپہر 12 بجے، بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 184,774.69 پوائنٹس پر تھا، جو 3,318.36 پوائنٹس یعنی 1.83 فیصد کا اضافہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے خریداری کی یہ لہر آئندہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرح سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کی وجہ سے ہے۔
ماہرین کے مطابق فنڈز اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی جانب سے نئی خریداری ہوئی ہے، جبکہ فروخت کا دباؤ بڑی حد تک کم ہوگیا ہے۔
Market is up at midday 🚀
⏳ KSE 100 is positive by +3300.01 points (+1.82%) at midday trading. Index is at 184,756.35 and volume so far is 186.65 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/CZyLw1WyPZ— Investify Pakistan (@investifypk) January 16, 2026
آج اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی، جن میں گاڑی ساز، سیمنٹ، کمرشل بینک، کھاد، تیل و گیس کی دریافت کرنے والی کمپنیوں سمیت آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اور پاور جنریشن شامل ہیں۔
حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پاکستان آئل لمیٹڈ، پاکستان اسٹیٹ آئل، ایس ایس جی سی، ایس این جی پی ایل، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک، نیشنل بینک اور یونائیٹڈ بینک جیسے وزن رکھنے والے اسٹاک سبز زون میں ٹریڈ ہوئے۔
مزید پڑھیں:اسٹاک ایکسچینج ایک بار پھر منفی زون میں، انڈیکس میں 600 پوائنٹس کی کمی
وفاقی حکومت نے گزشتہ روز یعنی جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آئندہ 15 روز کے لیے برقرار رہیں گی۔
گزشتہ روز اسٹاک ایکسچینج کا سیشن شدید کمی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، کیونکہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، سرمایہ کاروں کے جذبات میں کمزوری اور اہم شعبوں میں مسلسل فروخت کی وجہ سے بڑے بینچ مارک انڈیکس منفی زون میں چلے گئے تھے۔

بینچ مارک 100 انڈیکس 181,456.34 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 1,113.48 پوائنٹس یعنی 0.61 فیصد کی کمی کا عکاس تھا۔
عالمی سطح پر، ایشیائی اسٹاکس جمعہ کو اوپر گئے، کیونکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں دوبارہ تیزی سامنے آئی، جبکہ امریکی اقتصادی اعداد و شمار کے مثبت ہونے کے بعد ڈالر 6 ہفتوں کے بلند ترین مقام کے قریب مستحکم رہا۔
مزید پڑھیں: ڈھانچہ جاتی اصلاحات، نجکاری اور ڈیجیٹائزیشن سے معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے، اسحاق ڈار
تیل کی قیمتیں کمی کے ساتھ تھیں اور محفوظ سرمایہ کاری کے متبادل سونے اور چاندی کی قیمتیں کم ہوئیں، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں بے چینی کے حوالے سے ’انتظار کریں اور دیکھیں‘ کا مؤقف اپنایا، جبکہ پہلے مداخلت کی دھمکی دے چکے تھے۔
ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسفک شیئرز کا وسیع ترین انڈیکس جاپان کے علاوہ 0.5 فیصد اوپر گیا اور گزشتہ سیشن میں ریکارڈ بلند سطح کے قریب رہا، کیونکہ تائیوانی چپ ساز کمپنی ٹی ایس ایم سی کے شاندار نتائج نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں نئے جوش و خروش کو جنم دیا۔

امریکا اور تائیوان نے جمعرات کو ایک تجارتی معاہدہ بھی کیا، جس کے تحت کئی سیمی کنڈکٹر مصنوعات پر ٹیرف میں کمی ہوگی، نئی سرمایہ کاری امریکی ٹیکنالوجی صنعت کی جانب ہوگی اور اس سے چین کی ناراضگی کا خطرہ ہے۔













