پاکستان نے بھارتی غیرقانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں مساجد اور مسجد انتظامی کمیٹیوں کی مبینہ پروفائلنگ اور مذہبی امور میں مداخلت کو بین الاقوامی قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر میں پولیس کی نگرانی میں ڈیجیٹل پروفائلنگ پر مقامی آبادی میں شدید تشویش
اسلام آباد سے جاری بیان میں پاکستان نے کہا ہے کہ بھارتی غیرقانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں مساجد اور مسجد انتظامی کمیٹیوں کی پروفائلنگ مذہبی آزادی میں کھلی مداخلت ہے، جو بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ بیان کے مطابق یہ اقدامات مقبوضہ علاقے میں مسلم آبادی کو خوفزدہ کرنے اور انہیں حاشیے پر دھکیلنے کی ایک اور کوشش ہیں۔
🔊PR No.1️⃣9️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Pakistan Condemns the Profiling of Mosques and Mosque Management Committees in Indian Illegally Occupied Jammu and Kashmir https://t.co/OGiJwDFgaJ
🔗⬇️ pic.twitter.com/8s2sk06fZi— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) January 17, 2026
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ زبردستی ذاتی معلومات، تصاویر اور مذہبی وابستگیوں کا حصول، مذہبی رہنماؤں کو ہراساں کرنے اور عبادت گزاروں میں خوف پیدا کرنے کی منظم مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادانہ مذہبی عبادات میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔
پاکستان نے کہا کہ یہ اقدامات مقبوضہ کشمیر میں ہندوتوا نظریے کے تحت ادارہ جاتی اسلاموفوبیا کے وسیع تر رجحان کا حصہ ہیں۔ مساجد اور مسلم مذہبی مقامات کو نشانہ بنانا ان پالیسیوں کے امتیازی اور فرقہ وارانہ کردار کو بے نقاب کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر کی معروف خاتون رہنما آسیہ اندرابی دہشتگردی کیس سے بری، دیگر الزامات میں مجرم قرار
بیان میں واضح کیا گیا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو خوف، دباؤ اور امتیاز کے بغیر اپنے مذہب پر عمل کرنے کا ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے۔
پاکستان نے کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں مذہبی جبر اور عدم برداشت کے تمام واقعات کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھاتا رہے گا۔
اعلامیے کے مطابق پاکستان کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور مذہبی آزادی کی حمایت جاری رکھے گا۔













