سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارت کے حالیہ اقدامات پر بین الاقوامی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی جریدے اور پالیسی امور پر نظر رکھنے والے معتبر اداروں نے واضح کیا ہے کہ دریائے چناب پر بھارت کا مجوزہ ’دُلہستی اسٹیج ٹو ہائیڈرو پاور منصوبہ‘ سندھ طاس معاہدے کی روح اور شقوں کے منافی ہے۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں نہ صرف پاکستان کے قانونی مؤقف کی حمایت کی ہے بلکہ خبردار کیا ہے کہ پانی کو سیاسی اور تزویراتی ہتھیار بنانا پورے خطے کے استحکام اور کروڑوں افراد کی غذائی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
سندھ طاس معاہدہ اور عالمی اہمیت
1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ دنیا کے پائیدار ترین آبی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت مشرقی دریا بھارت اور مغربی دریا، جن میں سندھ، جہلم اور چناب شامل ہیں، پاکستان کے لیے مختص کیے گئے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ 2 ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگوں اور شدید سیاسی کشیدگی کے باوجود برقرار رہا، جو اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
India's unilateral projects like Dulhasti Stage II on Chenab River directly threaten Pakistan's water share under the Indus Waters Treaty.
Water is not just a resource it's Pakistan's lifeline for agriculture & food security. Respect for signed treaties is essential for regional… pic.twitter.com/fjUXReAG7D— Advocate Afshan Awan (@AdvAfshanAwan) January 17, 2026
دی نیشنل انٹرسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ صرف پاکستان کا داخلی معاملہ نہیں بلکہ 25 کروڑ سے زائد افراد کی غذائی سلامتی سے جڑا ہوا عالمی مسئلہ ہے۔
دُلہستی اسٹیج ٹو منصوبہ اور معاہدے کی خلاف ورزی
امریکی جریدے کے مطابق بھارت کی جانب سے دریائے چناب پر 260 میگاواٹ دُلہستی اسٹیج ٹو منصوبے کی منظوری بالائی کنٹرول اور معاہدے سے انحراف کی واضح مثال ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ بھارت اس منصوبے کو رن آف دی ریور قرار دیتا ہے، تاہم پانی کے بہاؤ کے وقت اور مقدار میں رد و بدل بھی پاکستان کی زراعت اور معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستانی مؤقف کی تائید، بھارت یکطرفہ سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرسکتا، وزیراعظم
جریدے نے واضح کیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل یا منسوخ نہیں کر سکتا اور دریائے چناب کا پانی پاکستان تک پہنچانا اس کی قانونی ذمہ داری ہے۔
پانی کو ہتھیار بنانے کے خدشات
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بھارت بالائی آبی منصوبوں، ہائیڈرو پاور ڈیمز اور آبی ڈیٹا روک کر پانی کو بطور تزویراتی ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ امریکی رسک اسیسمنٹ گروپ کے مطابق پانی کی فراہمی میں معمولی رکاوٹ بھی پاکستان میں فصلوں، دیہی معیشت اور غذائی نظام پر بڑے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کی غیر یقینی صورتحال خاموش مگر خطرناک دباؤ پیدا کرتی ہے، جس کے اثرات فوری طور پر نظر نہیں آتے مگر طویل مدت میں سماجی اور معاشی بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون اور زیریں ممالک کے حقوق
بین الاقوامی آبی قانون کے تحت زیریں ممالک کو دریاؤں کے پانی کے بلا رکاوٹ اور بروقت بہاؤ کا بنیادی حق حاصل ہے۔ بالائی ریاست کسی بھی صورت میں پانی کے بہاؤ کو اس انداز میں تبدیل نہیں کر سکتی جس سے زیریں ملک کی زراعت، روزگار اور معیشت متاثر ہو۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا بھارتی اقدام غیرقانونی قرار، پاکستان کا خیرمقدم
دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق بھارت کے حالیہ اقدامات ان اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
علاقائی اور عالمی اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر سندھ طاس معاہدہ کمزور پڑتا ہے تو یہ مثال دنیا کے دیگر آبی تنازعات میں بھی خطرناک رجحان کو جنم دے سکتی ہے، جہاں پانی کو تعاون کے بجائے دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایسا طرزِ عمل جنوبی ایشیا میں کشیدگی بڑھانے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر آبی معاہدوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کا تحفظ صرف پاکستان اور بھارت نہیں بلکہ پورے خطے کے امن، غذائی سلامتی اور ماحولیاتی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔













