وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق دائر دو ہزار سے زائد درخواستوں پر سماعت کے دوران وکلاء کے تفصیلی دلائل سنے گئے، تاہم عدالت نے مزید سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی۔
سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 150 وکلاء میں سے 100 سے زائد اپنے دلائل مکمل کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ارشد شریف قتل کیس، وفاقی حکومت نے آئینی عدالت میں پیشرفت رپورٹ جمع کروا دی
مختلف انٹرنیٹ کمپنیوں کے وکیل عدنان حیدر رندھاوا نے مؤقف اختیار کیا کہ فنانس بل 2022 سے پہلے ان کی کمپنیوں سے 18 ماہ کا سپر ٹیکس وصول کیا گیا۔ اس پر چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ جب ٹیکس ایئر 12 ماہ کا ہوتا ہے تو 18 ماہ کا ٹیکس کیسے عائد کیا جا سکتا ہے۔
ایف بی آر کی وکیل عاصمہ حامد نے جواب میں کہا کہ تمام ٹیکس ہمیشہ 12 ماہ کی بنیاد پر لگائے جاتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر 18 ماہ کا ٹیکس ادا کیا گیا تھا تو اضافی رقم کی واپسی کے لیے درخواست کیوں نہیں دی گئی۔

عدنان حیدر رندھاوا نے عدالت کو بتایا کہ سپر ٹیکس کی شق 4 سی یکم جولائی 2022 سے نافذ ہوئی، جبکہ ان سے یکم جنوری 2021 سے خصوصی ٹیکس وصول کیا جا رہا تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سپر ٹیکس 18 ماہ پہلے سے لیا گیا۔
عدالت میں مختلف انٹرنیٹ کمپنیوں کے وکیل عدنان حیدر رندھاوا کے دلائل مکمل ہو گئے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر فوجی فرٹیلائزرز کے وکیل جمال احمد سکھیرا اپنے دلائل پیش کریں گے۔














