چین میں سال 2025 کے دوران شرحِ پیدائش ریکارڈ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کی آبادی مسلسل چوتھے سال بھی کم ہوئی، حالانکہ حکومت شادی اور بچوں کی پیدائش بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چین میں صحراوں کو روکنے کیلئے گرین بیلٹ لگائے جاتے ہیں
چینی حکام کے مطابق گزشتہ سال ملک بھر میں صرف 79 لاکھ 20 ہزار بچوں کی پیدائش ریکارڈ کی گئی، جو کہ فی ہزار افراد 5.63 کی شرح بنتی ہے۔ نیشنل بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق یہ شرح 1949 کے بعد سب سے کم ہے، جب چین میں پہلی بار باقاعدہ آبادی کے اعداد و شمار جمع کیے گئے تھے۔
China last year registered the lowest number of births since records began, marking the fourth consecutive year of population decline as policymakers grapple with a demographic crisis. https://t.co/Hg64IXVfr6 pic.twitter.com/2MsYLAJwh7
— Financial Times (@FT) January 19, 2026
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ اگرچہ ’ون چائلڈ پالیسی‘ کے خاتمے کے بعد حکومت کو بہتری کی امید تھی، تاہم 2024 میں معمولی اضافے کے بعد 2025 میں ایک بار پھر نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق 2023 میں 90 لاکھ 20 ہزار بچوں کی پیدائش ہوئی تھی، جب کہ اس وقت شرحِ پیدائش فی ہزار 6.39 تھی۔ 2024 میں معمولی بہتری آئی، مگر یہ رجحان برقرار نہ رہ سکا۔
BREAKING: China’s birth rate has fallen to a record low, the lowest since 1949. The country’s population declined for a fourth consecutive year in 2025, as annual deaths continued to outnumber births.
No New Humans = No Civilization pic.twitter.com/uC7fXuvnA5
— DogeDesigner (@cb_doge) January 19, 2026
حکام کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں شادی کی شرح بھی ریکارڈ حد تک کم ہو چکی ہے۔ مہنگائی، بچوں کی پرورش کے بڑھتے اخراجات اور کیریئر سے متعلق خدشات کے باعث کئی نوجوان جوڑے بچے پیدا کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
دوسری جانب 2025 میں چین میں 1 کروڑ 13 لاکھ 10 ہزار اموات ریکارڈ کی گئیں، جس کے باعث شرحِ اموات فی ہزار 8.04 رہی۔ اس طرح مجموعی طور پر آبادی میں فی ہزار 2.41 کی کمی ہوئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تیزی سے بڑھتی عمر رسیدہ آبادی چین کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے، اور موجودہ رجحان معیشت اور سماجی ڈھانچے پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔












