اسرائیل نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں فلسطینی مہاجرین کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کے ہیڈکوارٹرز میں واقع عمارتوں کو بلڈوز کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب اسرائیلی حکومت غزہ میں فلسطینیوں کو انسانی امداد فراہم کرنے والے اداروں کے خلاف سخت اقدامات کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں فلسطینیوں پر مظالم کے بعد اسرائیلی فوجیوں میں ذہنی امراض میں تشویشناک اضافہ
یو این آر ڈبلیو اے نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ اسرائیلی فورسز نے شیخ جراح کے علاقے میں واقع اس کے ہیڈکوارٹرز پر دھاوا بولا، عملے کے آلات ضبط کیے اور ملازمین کو زبردستی عمارت سے نکال دیا۔
ادارے کے مطابق یہ اقدام نہ صرف یو این آر ڈبلیو اے بلکہ اقوامِ متحدہ کے استحقاق اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق اسرائیلی فوجی دستہ بلڈوزرز کے ہمراہ علاقے میں داخل ہوا، اطراف کی سڑکیں بند کر دی گئیں اور شدید سیکیورٹی کے بعد کمپاؤنڈ کے اندر موجود ڈھانچوں کو منہدم کرنا شروع کر دیا گیا۔
یو این آر ڈبلیو اے کے سربراہ فلپ لازارینی کے مطابق اسرائیلی ارکانِ پارلیمنٹ اور حکومتی نمائندے بھی اس موقع پر موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی فلسطینی مہاجرین کی شناخت کو مٹانے کی کوششوں کا تسلسل ہے۔
فلپ لازارینی نے خبردار کیا کہ اگر آج یو این آر ڈبلیو اے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کل دنیا کے کسی بھی حصے میں کوئی اور بین الاقوامی ادارہ یا سفارتی مشن بھی اس کا شکار ہو سکتا ہے۔
اسرائیل طویل عرصے سے یو این آر ڈبلیو اے پر فلسطینیوں کی حمایت اور حماس سے تعلقات کے الزامات عائد کرتا رہا ہے تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے جنہیں ادارہ مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔
اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ انہدام ایک نئے قانون کے تحت کیا گیا ہے جس میں یو این آر ڈبلیو اے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے اس کارروائی کو تاریخی دن قرار دیا۔
مزید پڑھیے: ایرانی ہیکرز کا اسرائیلی کمپنی پر سائبر اٹیک، مالی معاملات میں نقائص کا انکشاف
واضح رہے کہ چند ہفتے قبل اسرائیل نے غزہ میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف درجنوں بین الاقوامی اداروں پر پابندی عائد کی تھی جس پر عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی۔
اسرائیل نے 37 امدادی تنظیموں کے آپریٹنگ لائسنس منسوخ کیے جن میں ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز اور ناروے ریفیوجی کونسل بھی شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے گزشتہ ہفتے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا کہ اگر یو این آر ڈبلیو اے کے خلاف قوانین واپس نہ لیے گئے اور ضبط شدہ اثاثے بحال نہ کیے گئے تو معاملہ عالمی عدالتِ انصاف لے جایا جا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق مشرقی یروشلم اسرائیل کے قبضے میں ہے جبکہ اسرائیل پورے یروشلم کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔













