سندھ طاس معاہدہ کی معطلی پاکستان کی آبی سلامتی کے لیے خطرہ، اسلام آباد نے اقوام متحدہ کو خبردار کر دیا

بدھ 21 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے اقدام کو آبی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ قانونی طور پر بدستور نافذ العمل ہے اور کسی ایک فریق کو اسے یکطرفہ طور پر معطل یا تبدیل کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔

یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے کینیڈا کے مستقل مشن اور اقوام متحدہ یونیورسٹی کے اشتراک سے منعقدہ گلوبل واٹر بینکرپسی پالیسی راؤنڈ ٹیبل سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

یہ بھی پڑھیے بھارت پانی کو ہتھیار بنا رہا ہے، سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جاسکتا، امریکی جریدے کی رپورٹ

سفیر عثمان جدون نے بھارت کے اقدام کو ایسے ملک کا فیصلہ قرار دیا جو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔

’سندھ طاس معاہدہ ناقابلِ تنسیخ ہے‘

پاکستان کے مستقل مشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق سفیر جدون نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے۔
1960 کا سندھ طاس معاہدہ قانونی طور پر مکمل طور پر برقرار ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ معطلی یا ترمیم کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپریل گزشتہ سال بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل رکھنے کا اعلان، اس کے بعد بغیر اطلاع پانی کے بہاؤ میں رکاوٹیں اور ہائیڈرولوجیکل معلومات روکنا، معاہدے کی صریح خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

پاکستان کی زراعت اور 24 کروڑ آبادی کا انحصار

سفیر عثمان جدون نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ گزشتہ چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے دریائے سندھ کے نظام کے منصفانہ اور قابلِ پیش گوئی انتظام کے لیے ایک آزمودہ فریم ورک فراہم کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ نظام پاکستان کی 80 فیصد سے زائد زرعی پانی کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ 24 کروڑ سے زائد افراد کے روزگار اور خوراک کا دارومدار اسی پر ہے

خطاب کے دوران سفیر جدون نے کہا کہ پانی کی عدم تحفظ اب محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی نظامی خطرہ بن چکا ہے، جو خوراک کی پیداوار، توانائی، صحتِ عامہ، روزگار اور انسانی سلامتی کو متاثر کر رہا ہے۔

پاکستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملک کو شدید سیلاب، خشک سالی، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، زیرِ زمین پانی کی کمی اور تیز رفتار آبادی میں اضافے جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جو پہلے سے دباؤ میں موجود آبی نظام پر مزید بوجھ ڈال رہے ہیں۔

پانی کے تحفظ کے لیے پاکستان کے اقدامات

سفیر جدون کے مطابق پاکستان آبی لچک (Water Resilience) بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کر رہا ہے، جن میں مربوط آبی منصوبہ بندی، سیلاب سے تحفظ، نہری نظام کی بحالی، زیرِ زمین پانی کی ری چارجنگ اور ماحولیاتی نظام کی بحالی شامل ہیں، جن میں لیونگ انڈس اور ریچارج پاکستان جیسے منصوبے نمایاں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا بھارتی اقدام غیرقانونی قرار، پاکستان کا خیرمقدم

انہوں نے زور دیا کہ مشترکہ دریائی نظاموں میں پانی کے خطرات کا مقابلہ کوئی بھی ملک اکیلا نہیں کر سکتا۔ انہوں نے شفافیت، پیش بینی اور باہمی تعاون کو سرحد پار آبی نظم و نسق کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

سفیر جدون نے مطالبہ کیا کہ 2026 کی اقوام متحدہ کی آبی کانفرنس سے قبل پانی کے عدم تحفظ کو ایک عالمی نظامی خطرے کے طور پر تسلیم کیا جائے اور بین الاقوامی آبی قوانین کے احترام کو مشترکہ آبی نظم و نسق کا مرکز بنایا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈپریشن اور انگزائٹی خواتین کو بیماری کے خطرے کے قریب لے جا رہی ہیں

عمران خان کے آنکھوں کے علاج سے متعلق ذاتی معالج ڈاکٹر خرم مرزا کا اہم بیان سامنے آ گیا

صدر زرداری کا قومی کرکٹ ٹیم کی فتح پر اظہارِ مسرت

برطانیہ: جنسی جرائم اور ڈکیتی کے کیسز میں تاریخی اضافہ

اداکارہ علیزے شاہ کا معروف گلوکارہ شازیہ منظور پر بے ایمانی کا الزام

ویڈیو

کیا محمود اچکزئی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کروا پائیں گے؟

 خون جما دینے والی سردی کا توڑ لاندی جو گھروں سے نکل کر ہوٹل تک پہنچ گئی

خیبر پختونخوا میں آج بھی جنرل فیض کی ٹیم بیوروکریسی کے اہم عہدوں پر اور صوبے کی کرتا دھرتا ہے، اختیار ولی خان

کالم / تجزیہ

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

ایک تھا ونڈر بوائے

کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی