پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز بھی تیزی کا رجحان برقرار رہا، جہاں کاروبار کے ابتدائی لمحات میں ہی 100 انڈیکس 189,000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا۔
صبح 9 بج کر 35 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 767.47 پوائنٹس یعنی 0.41 فیصد اضافے کے ساتھ 189,389.25 پوائنٹس پر موجود تھا۔
اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اور ریفائنری شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: روپے کی قدر میں مضبوطی، پاکستانی معیشت کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟
اے آر ایل، کے ای، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی ایس او، ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی، ایچ بی ایل، ایم سی بی، این بی پی اور یو بی ایل سمیت انڈیکس پر زیادہ اثر ڈالنے والے شیئرز سبز نشان میں ٹریڈ ہوتے رہے۔
PSX Opened Positive 🚀
☀️ KSE 100 opened positive by +533.38 points this morning. Current index is at 189,155.17 points (9:45 AM) pic.twitter.com/3k2NOQb7WG— Investify Pakistan (@investifypk) January 21, 2026
تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ میں اس تیزی کی بنیادی وجہ مقامی میوچل فنڈز کی جانب سے خریداری ہے۔
ایک اہم پیش رفت میں، موجودہ مالی سال 26 کی پہلی ششماہی کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع اور ڈیویڈنڈ کی وطن واپسی میں 27 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو پاکستان سے آمدنی کے بڑھتے ہوئے اخراج کی نشاندہی کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: یو بی ایل سب سے بڑی لسٹڈ کمپنی بن گئی، اسٹاک ایکسچینج 186000 پوائنٹس کی نئی بلندی پر
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، جولائی تا دسمبر مالی سال 26 کے دوران غیر ملکی کمپنیوں نے 1.559 ارب ڈالر منافع اور ڈیویڈنڈ کی مد میں بیرون ملک منتقل کیے، جو گزشتہ مالی سال 25 کے اسی عرصے میں 1.226 ارب ڈالر تھے۔
گزشتہ روز یعنی منگل کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار مثبت رہا اور سرمایہ کاروں کی مسلسل دلچسپی کے باعث بینچ مارک انڈیکس میں اضافہ ہوا۔

کے ایس ای 100 انڈیکس 860.09 پوائنٹس یا 0.46 فیصد اضافے کے ساتھ 188,621.78 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر، بدھ کے روز ایشیائی مارکیٹوں میں مسلسل تیسرے سیشن میں بھی مندی دیکھی گئی۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان، انڈیکس میں 3,300 پوائنٹس کا اضافہ
اس کی وجہ امریکی صدر کی جانب سے گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی دھمکیوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ڈیووس میں متوقع خطاب سے قبل غیر یقینی صورتحال بتائی جا رہی ہے، جبکہ عالمی بانڈ مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ وقتی طور پر کم ہوتا دکھائی دیا۔
’سیل امریکا‘ ٹریڈ سے موسوم امریکی اثاثوں کی بیرون ملک فروخت کے خدشات نے مارکیٹوں کو جکڑ لیا۔
مزید پڑھیں:پاکستان اسٹاک ایکسچینج: سرمایہ کاروں کی تعداد میں 41 فیصد اضافہ
گزشتہ سال اپریل میں ’لبریشن ڈے‘ کے ٹیرف اعلانات کے بعد یہ رجحان سامنے آیا تھا۔
وال اسٹریٹ میں راتوں رات 2 فیصد سے زائد گراوٹ دیکھی گئی جبکہ امریکی ڈالر کو ایک ماہ سے زائد عرصے کی سب سے بڑی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

ان حالات میں سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کی جانب رخ کیا جس کے نتیجے میں سونا اور چاندی دونوں نئی تاریخی بلند سطحوں پر پہنچ گئے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کے حوالے سے اپنے مؤقف پر سختی برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کے ہدف سے ’واپسی کا کوئی راستہ نہیں‘، اور طاقت کے استعمال کو بھی مسترد کرنے سے انکار کر دیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی مالیاتی استعداد میں بہتری، وفاقی ٹیکس میں اضافہ ریکارڈ
یورپ پر ممکنہ امریکی ٹیرف کی دھمکیوں نے ایک بار پھر عالمی تجارتی جنگ کے خدشات کو ہوا دے دی ہے۔
یورپی یونین اس معاملے پر غور کے لیے جمعرات کو برسلز میں ہنگامی اجلاس بلائے گی، جبکہ امریکا اور یورپ کے دیرینہ اتحاد کو بھی سنگین خطرات لاحق نظر آ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ڈھانچہ جاتی اصلاحات، نجکاری اور ڈیجیٹائزیشن سے معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے، اسحاق ڈار
اب تمام نظریں ورلڈ اکنامک فورم پر مرکوز ہیں جہاں صدر ٹرمپ بدھ کے روز خطاب کرنے والے ہیں۔
ابتدائی کاروبار میں جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے لیے ایم ایس سی آئی کے وسیع ترین انڈیکس میں 0.3 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس 1.2 فیصد گر گیا اور مسلسل 5ویں روز بھی مندی کا شکار رہا۔













