کوئٹہ میں بلوچستان گرینڈ الائنس کی جانب سے سرکاری ملازمین کے مطالبات کے حق میں احتجاج اور ممکنہ پریس کانفرنس کے پیشِ نظر پولیس کی جانب سے دوسرے روز بھی کریک ڈاؤن جاری رہا۔
شہر کے مختلف علاقوں میں گرینڈ الائنس کے رہنماؤں اور کارکنان کی گرفتاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
پولیس نے بلوچستان گرینڈ الائنس کے صدر قدوس کاکڑ سمیت متعدد رہنماؤں کو حراست میں لے لیا، جبکہ گزشتہ روز بھی کئی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس کی بھاری نفری کوئٹہ پریس کلب اور اطراف کے علاقوں میں تعینات رہی تاکہ کسی بھی ممکنہ احتجاج یا پریس کانفرنس کو روکا جا سکے۔
منان چوک پر سرکاری ملازمین اور پولیس آمنے سامنے آ گئے، جہاں صورتحال کچھ دیر کے لیے کشیدہ رہی۔
احتجاج میں خواتین ملازمین کی بڑی تعداد بھی شریک تھی، جنہوں نے گرفتاریوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

پولیس کارروائی کے دوران سرکاری ملازمین کی جانب سے گرفتاریوں کے خلاف مزاحمت بھی دیکھنے میں آئی۔
کوئٹہ پولیس کے مطابق امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ گرینڈ الائنس کے رہنماؤں نے پولیس کریک ڈاؤن کو پرامن احتجاج کو دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
حالات کے پیش نظر شہر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور مزید گرفتاریوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔












