ڈھاکہ میڈیکل کالج اسپتال میں جمعرات کی صبح ایک مریضہ کی ہلاکت کے بعد ڈاکٹروں اور لواحقین کے درمیان تصادم کے باعث ایمرجنسی طبی خدمات ساڑھے 3 گھنٹے معطل رہیں۔
ایمرجنسی سروسز کی معطلی اس وقت عمل میں آئی جب مریضہ کے اہلِ خانہ نے طبی غفلت کے الزامات عائد کیے، جبکہ ڈاکٹروں نے آن ڈیوٹی ڈاکٹروں پر حملے کا الزام مریضہ کے رشتہ داروں پر لگایا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈھاکہ، پاکستانی شہری کی فیملی تنازع کے دوران خودکشی کی کوشش
سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر ڈاکٹروں نے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کا مرکزی دروازہ بند کر دیا، جس کے نتیجے میں رات تقریباً ایک بجے سے صبح ساڑھے 4 بجے تک ایمرجنسی خدمات بند رہیں۔
بعد ازاں خدمات بحال کر دی گئیں اور صورتحال معمول پر آ گئی۔
Shock at Dhaka Medical: doctors attacked and emergency services shut for hours after a patient’s death, disrupting care and sparking outrage across the health sector.#Dhaka #Healthcare pic.twitter.com/TsuzfDKN6m
— ChittagongChronicles (@Chittagong_0) January 22, 2026
اہلِ خانہ کے مطابق عظیم پور علاقے کی رہائشی 33 سالہ رشیدہ بیگم جگر سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث اسپتال کے میڈیسن وارڈ میں زیرِ علاج تھیں۔
ان کے بیٹے کا کہنا ہے کہ علاج کے دوران ایک انجیکشن غلط طریقے سے لگایا گیا، جس کے بعد ان کی والدہ کی حالت تیزی سے بگڑ گئی اور وہ بدھ کی شب انتقال کر گئیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں 16 ماہ کے دوران 113 مزارات پر حملے، ڈھاکہ ڈویژن سرفہرست
اسپتال ذرائع کے مطابق آدھی رات کے فوراً بعد ڈاکٹروں اور مریضہ کے رشتہ داروں کے درمیان تلخ کلامی شروع ہوئی جو بعد میں ہاتھا پائی میں تبدیل ہو گئی۔
صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے انصار کے اہلکاروں، ٹرینی ڈاکٹروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مداخلت کی۔
ایک ٹرینی ڈاکٹر نے میڈیا کو بتایا کہ واقعے کے دوران متعدد ڈاکٹر زخمی ہوئے جنہیں ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں طبی امداد فراہم کی گئی۔
مزید پڑھیں: بھارت کا بنگلہ دیش سے اپنے سفارتی اہلکاروں کے اہلِ خانہ کو واپس بلانے کا فیصلہ
پولیس نے تصدیق کی ہے کہ 2 افراد کو حراست میں لے کر مزید تفتیش کے لیے شاہ باغ تھانے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
کسی بھی ممکنہ بدامنی سے بچنے کے لیے اسپتال میں اضافی پولیس نفری اور ریپڈ ایکشن بٹالین کے اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر بنگلہ دیش کے سرکاری اسپتالوں میں موجود کشیدگی کو اجاگر کرتا ہے، جہاں طبی غفلت کے الزامات اور عملے کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات اکثر تصادم کا باعث بنتے ہیں۔













