دنیا کی دوا سازی کی صنعت ایک مشکل مرحلے سے گزر رہی ہے، جسے ماہرین ’ای روم کے قانون‘ کہتے ہیں۔ اس کے مطابق، کمپیوٹر ہر دو سال میں دوگنے طاقتور ہو جاتے ہیں، لیکن نئی دوا بنانے کی لاگت ہر نو سال میں تقریباً دوگنی ہو جاتی ہے۔ 1960 کی دہائی میں ایک ارب ڈالر سے 10 نئی ادویات بنائی جا سکتی تھیں، لیکن آج وہی رقم ایک دوا بھی تیار کرنے کے لیے کافی نہیں۔ یہ ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔
مصنوعی ذہانت اے آئی اس صورتحال کو بدل سکتی ہے۔ اے آئی کی مدد سے دوا بنانے کا عمل تیز اور سستا ہو سکتا ہے، خاص طور پر ابتدائی مرحلے میں جہاں محققین لاکھوں مرکبات میں سے چند ممکنہ امیدوار چنتے ہیں۔ جدید اے آئی ماڈلز، جیسے AlphaFold 3، مالیکیولز کی ساخت کی پیش گوئی کر کے مہینوں کے تجربات کو صرف چند گھنٹوں میں مکمل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کی تیز رفتار پیش قدمی سے کونسی ملازمتیں خطرے میں؟ بل گیٹس نے بتا دیا
حالیہ مثالیں امید دلاتی ہیں۔ ایک اے آئی اسٹارٹ اپ نے صرف 18 ماہ میں نئی دوا کے لیے ہدف دریافت کیا اور انسانی ٹرائل کے لیے مالیکیول تیار کیا، جس کی لاگت 2.7 ملین ڈالر رہی، جو عام طریقے سے بہت کم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک اب صرف جنرک ادویات بنانے کے بجائے اپنی تحقیق اور جدید ادویات تیار کر سکتے ہیں۔
اے آئی کا اثر صرف روایتی ادویات تک محدود نہیں۔ 2025 میں mRNA پر مبنی ذاتی کینسر ویکسینز میں کامیابی دیکھی گئی، جس میں AI مریض کے مخصوص ٹیومر کے مطابق مؤثر مالیکیول تلاش کرتا ہے۔ اگرچہ موجودہ عمل مہنگا اور پیچیدہ ہے، لیکن عام ویکسینز پر کام جاری ہے جو زیادہ لوگوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی پہلی سرکاری اے آئی اوتار ’لیلیٰ‘ کیا کام کرے گی؟
لیکن اے آئی کو چلانے کے لیے مضبوط انفراسٹرکچر درکار ہے۔ ڈیٹا سینٹرز کو بہت زیادہ بجلی چاہیے، اور بہت سے ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ چیلنج ہے۔ ساتھ ہی، امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی تنازع بھی خطرہ ہے، کیونکہ جدید اے آئی چلانے کے لیے ضروری ہارڈویئر تک رسائی مشکل ہو سکتی ہے۔
پھر بھی، ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں مواقع روشن ہیں۔ بھارت اور چین جیسے ممالک اے آئی اور ڈیجیٹل خدمات میں عالمی مرکز بننے کی کوشش کر رہے ہیں، اور یہی ماڈل دوا سازی اور تشخیص کے شعبے میں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی جنگ: جیمنی کی مقبولیت میں اضافہ، چیٹ جی پی ٹی پیچھے، وجہ کیا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو اے آئی کے فوائد کے لیے صرف مغربی ٹیکنالوجی کے صارف بننے کی بجائے اپنی صلاحیتیں اور انفراسٹرکچر مضبوط کرنا ہوگا۔ اگر یہ قدم اٹھائے گئے تو 2026 گلوبل ساؤتھ کے لیے ایک اہم موقع ثابت ہو سکتا ہے، جہاں AI نہ صرف دولت بلکہ صحت کے بہتر مواقع بھی فراہم کرے۔













