میں نے وی نیوز میں اپنے گزشتہ کالم کا عنوان رکھا تھا، ’امریکی خطرناک ہتھیار جس نے دیگر سپرپاورز کو ہلا دیاٖ۔‘
یہ دراصل ان نادیدہ، خطرناک ہتھیاروں سے متعلق کالم تھا، جن کے بارے میں ابھی زیادہ کچھ معلوم نہیں۔ (جنہوں نے نہیں پڑھا اور وہ دلچسپی رکھتے ہیں، وہ احباب وی نیوز کے کالم والے سیکشن میں میرے کالموں والے پیج پر یہ کالم پڑھ سکتے ہیں یا میری فیس بک وال سے استفادہ کریں۔)
خوش قسمتی کہیں یا بدقسمتی کہ وینزویلا کے آپریشن کے دوران یہ خطرناک پُراسرار ہتھیار استعمال ہوا اور ایک گارڈ جو بچ گیا تھا، اس نے اس کی تفصیل میڈیا کو بتا دی، یوں دنیا کے سامنے یہ آگیا۔ اس پر نیویارک کے معروف قدیمی اخبار نیویارک پوسٹ اور سنڈے گارڈین نے فیچر شائع کیا۔ ان اخبارات نے مختلف ماہرین سے اس کی تفصیل معلوم کی تو پتا چلا کہ یہ سونک ویپن ہے، اس میں بڑی قوت کے ساتھ ایسی لہروں کو مخالف پر پھینکا جاتا ہے جس سے آواز تو پیدا نہیں ہوتی، مگر جن پر وار کیا جائے، انہیں اپنے سر میں دھماکا محسوس ہوتا ہے، ان کا اعصابی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور وہ چکرا کر گر پڑتے ہیں، بعض کا ناک بہنے لگتا ہے، کچھ کو خون کی الٹیاں آتی ہیں اور خاصی دیر تک وہ سنبھل ہی نہیں پاتے۔
یہ موضوع دلچسپ لگا تو اس پر مزید ریسرچ کی تو پتا چلا کہ یہ ویپنز ڈائریکٹڈ انرجی ویپنز کہلاتے ہیں، ان کی تین چار قسمیں ہیں، جن میں لیزر ویپنز، مائیکرو ویو ویپن، سونک ویپن اور الیکٹرو میگنیٹک پلس۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک خفیہ طور پر ان پر کام کر رہے ہیں۔ بعض غیر مصدقہ اطلاعات سامنے ہیں، مگر کسی بڑی جنگ میں یہ کنفرم ہوپائیں گے۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ گلوان کی جنگ میں انڈو چائنا بارڈر پر چینی فوج نے بھارتی فوجیوں کو پسپا کرنے کے لیے مائیکروویو ویپن استعمال کیا۔ انڈین فوج اور میڈیا گو اس کی تردید کرتے ہیں، مگر کئی ذمہ دار سورسز اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ برطانیہ بھی ایک خفیہ ہتھیار ڈریگن ویپن بنا رہا ہے یا بنا چکا ہے۔ امریکا کے بارے میں البتہ قوی امکان یہی ہے کہ اس نے یہ تمام انرجی ڈآئریکٹڈ ویپنز بنا لیے ہیں۔
میں نے کالم اپنی فیس بک وال پر لگایا تو اس کا ریسپانس غیر معمولی تھا۔ بہت زیادہ لوگوں نے پڑھا، بعض نے البتہ حیرت اور بے یقینی کا مظاہرہ کیا۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ شاید مبالغے سے کام لیا گیا ہے، حالانکہ میں نے تمام مستند حوالے جمع کیے اور انہیں بار بار چیک کرکے یہ کالم لکھا۔ مزے کی بات ہے کہ خود روسی حکومت نے اب باضابطہ طور پر صدر ٹرمپ سے پوچھا ہے کہ امریکا اس سونک ویپن کے حوالے سے باقاعدہ وضاحت کرے۔ اب بھی اگر کوئی بھولا بادشاہ نہ مانے تو ہم کیا کر سکتے ہیں بھیا۔ ایسے بھی شہزادے یہاں ہیں جن کے خیال میں انسان آج تک چاند پر گیا ہی نہیں۔
بعض قارئین نے یہ بھی کہاکہ اگر ایسا ہے تو امریکا نے نارتھ کوریا اور ایران کو فتح کیوں نہیں کر لیا؟ اس کی الگ الگ وجوہات ہیں۔ شمالی کوریا کے پاس تو ایٹم بم اور لانگ رینج میزائل ہیں تو کوئی بھی یہ رسک نہیں لے گا کہ کہیں وار اوچھا پڑا تو کروڑوں افراد کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے۔ ایران پر یہ ہتھیار استعمال کیے جانے کا خطرہ ہے، مگر یہ تب ہی ہوگا جب کسی ہائی پروفائل ٹارگٹ کو نشانہ بنانا یا اغوا کرنا مقصد ہو۔ اللہ پاک ایرانی قیادت کو محفوظ رکھے۔
ماہرین ان ہتھیاروں سے بچنے کے بھی طریقے اور ٹپس بتاتے ہیں۔ آج کے کالم کا اصل مقصد ان کا احاطہ تھا، باقی باتیں تو تمہید اور وضاحت میں آ گئیں۔ ایسی ہر فوج یا حکومت جنہیں اپنے اوپر یہ انرجی ڈائریکٹڈ ویپنز استعمال ہونے کا خدشہ ہے، وہ چند کام لازمی کریں:
پہلا کام یہ کہ کمانڈ سسٹم کی مرکزیت کو ختم کیا جائے۔ ڈی سینٹرلائزڈ کمانڈ ہی ایسی جنگ میں کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ اگر تمام فیصلے ایک ہی مرکز سے ہوں تو پھر اسی مرکز پر اٹیک ہوگا اور وہ تباہ کن ہوسکتا ہے، مختلف سطحوں پر خودمختار فیصلہ سازی ضروری ہے۔ جیسے وینزویلا کے صدر کی مرکزی حیثیت تھی، اسے اٹھا لیا گیا تو پوری جنگ ہی ختم ہوگئی۔
دوسرا نسخہ سادہ مگر ماہرین کے مطابق مفید ہے، یعنی ڈیجیٹل کے ساتھ اینالاگ متبادل۔ جب سپر پاور سے ٹاکرا ہو تو ڈیجیٹل کمیونکیشن پر مکمل انحصار خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس لیے وائرڈ، اینالاگ اور انسانی رابطے بطور بیک اپ موجود ہوں تاکہ بجلی اور نیٹ ورک بند ہونے پر بھی حکم جاری رہ سکے۔
تیسرا حل ماہرین اپنے اہم بنکرز، کمانڈ روم اور حساس مقامات کے گرد الیکٹرومیگنیٹک شیلڈنگ کا بتاتے ہیں۔ اس کا مقصد الیکٹرانکس کی اچانک ناکامی سے بچاؤ اور سگنلز کے غیرمعمولی اثرات کم کرنا ہے۔
چوتھا نسخہ، اپنے گارڈز اور اہم لوگوں کو ناگہانی اور اچانک کچھ غیر معمولی ہونے کی صورت میں تیار رہنے کی تربیت۔ نظر نہ آنے والی یعنی انویزیبل جنگ میں ہتھیار صرف مشین کو نہیں، انسان کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس لیے جب گارڈز اور اہلکاروں کو اچانک چکر، کنفیوژن، خوف جیسے حالات میں ردِعمل کی تربیت دی جائے۔ اگرپینک (Panic)کم ہو تو ملکی نظام جیسے تیسےچلتا رہتا ہے۔
پانچواں طریقہ: انویزیبل وار کی علامات پہچاننا۔ روایتی ریڈار میزائل دیکھتے ہیں، لہریں نہیں۔ نئے سینسرز اور طریقے درکار ہیں جو غیر معمولی برقی سرگرمی، اچانک سگنل ڈراپ اور یکساں علامات کو جلد شناخت کر سکیں۔ اس حوالے سے امریکا مخالف ممالک روس اور چین جیسے ممالک سے مدد اور رہنمائی لیں۔
چھٹا طریقہ قیادت کی نقل وحرکت کا غیر متوقع نظام بنانا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ مستقل مقامات اور ایک جیسے معمولات خطرہ بڑھاتے ہیں۔ اس لیے خاصا کچھ غیر متوقع کریں، اَن پریڈیکٹیبل۔
ساتواں اصول ہے مینٹل ٹف نیس۔ ذہنی طور پر تیار رہا جائے۔ انویزبیل جنگ کا پہلا حملہ اعتماد پر ہوتا ہے اگر قیادت اور فورسز جانتی ہوں کہ یہ حملہ تو ممکن ہے، مگر دشمن ناقابلِ شکست نہیں تب مخالف کی نفسیاتی برتری ختم ہوجاتی ہے۔
آٹھواں طریقہ: سائنسی طریقوں سے انویزیبل وار کا دفاع کرنا ہے۔ جیسے:
بنکرز کی صوتی انسولیشن کرنا۔ زیرِ زمین کمانڈ سینٹرز اور ’میزائل شہر‘ کو صرف کنکریٹ سے مضبوط نہیں کرنا ہوتا بلکہ ان کی دیواروں میں صوتی لہروں یعنی سونک ویوز کو جذب کرنے والا خاص مواد ساؤنڈ ابزارونگ میٹریل اور ربڑ کی تہیں لگانا پڑتی ہیں۔ یہ تہیں سونک حملوں کی لہروں کو اندر داخل ہونے سے پہلے ہی کمزور کر دیتی ہیں۔
اسی طرح جیسے جدید ہیڈ فونز باہر کے شور کو ختم کرتے ہیں، اسی طرح حساس مراکز میں بڑے پیمانے پر ایسے سسٹمز نصب کیے جاتے ہیں جو مخالف سمت سے آنے والی صوتی لہروں کو پہچان کر ان کے مقابلے میں ’اینٹی ویوز‘ (Anti-waves) پیدا کرتے ہیں، جس سے سونک حملے کا اثر زائل ہو جاتا ہے۔ سنا ہے کہ ایران نے یہ کام کسی حد تک کر رکھا ہے۔ اللہ نہ کرے آزمائش آئی تب اس کی افادیت اور مؤثر ہونے کا اندازہ ہوپائے گا۔ پاکستان کو بھی انہی خطوط پر تیاری کرنی چاہیے۔
ایک اور بہترین حل الیکٹرانک شیلڈنگ کا ہے۔ الیکٹرانک وارفیئر اور ڈائریکٹڈ انرجی ہتھیاروں (DEWs) سے بچنے کے لیے اہم سرورز اور کمیونیکیشن آلات کو فیراڈے کیجز (Faraday Cages) میں رکھا ہے۔ یہ دھاتی جالیاں ہوتی ہیں جو کسی بھی بیرونی برقی مقناطیسی لہر (EMP) یا مائیکرو ویو کو آلات تک پہنچنے سے روکتی ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق ایران نے اس حوالے سے کچھ چیزیں کسی دوست ملک سے لی ہیں۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو۔
دو تین دیگر طریقے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں، یہ غیر روایتی ہیں اور کوئی اندازہ نہیں کہ رئیل وار میں کس حد تک کام آ سکیں۔
ریفلیکٹیو کوٹنگ۔ دراصل لیزر ہتھیار حرارت (Heat) کے ذریعے ہدف کو پگھلاتے ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے میزائلوں اور ڈرونز پر خاص قسم کی عکاس (Reflective) یا آئینے جیسی تہہ چڑھائی جاتی ہے تاکہ جب لیزر شعاع میزائل سے ٹکرائے تو یہ تہہ اس شعاع کی زیادہ تر توانائی کو جذب کرنے کے بجائے واپس خلا میں ریفلیکٹ کر دے جس سے میزائل کو نقصان پہنچنے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔
اسی طرح ایبلیٹو میٹریلز (Ablative Materials) لگانا ہے۔ یہ وہی ٹیکنالوجی ہے جو خلائی جہاز زمین کے ماحول میں واپسی کے وقت استعمال کرتے ہیں۔ حساس تنصیبات اور میزائلوں کے بیرونی خول پر ایسی کیمیائی تہیں لگائی جاتی ہیں جو لیزر کی تپش لگتے ہی خود جل کر گر جاتی ہیں اور نیچے موجود اصل مشینری کو ٹھنڈا رکھتی ہیں۔ اس طرح لیزر کو ہدف کو پگھلانے کے لیے کئی گنا زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔
سب سے آسان اور صدیوں پرانا طریقہ ہے اسموگ اسکرین یعنی دھوئیں کی دیوار بنانا۔ لیزر اور ڈائریکٹڈ انرجی ہتھیاروں کی سب سے بڑی کمزوری ’صاف فضا‘ کی ضرورت ہے۔ اس لیے اہم تنصیبات کے گرد ایسے خاص ایروسول جنریٹرز نصب کیے جاتے ہیں جو حملے کی صورت میں فضا میں دھویں اور کیمیائی ذرات کا ایک بادل بنا دیتے ہیں۔ یہ ذرات لیزر کی شعاع کو پھیلا دیتے ہیں، جس سے اس کی طاقت اتنی کم ہو جاتی ہے کہ وہ ہدف کو نقصان نہیں پہنچا پاتی۔
یہ سب کاؤنٹر اسٹریٹیجی ہوسکتی ہے، مگر ظاہر ہے جس نے حملہ کرنا ہے، اسے بھی اس کا اندازہ ہو گا کہ ان خطوط پر توڑ کیا جا سکتا ہے۔ وہ بھی کچھ مزید، کچھ نیا سوچ کر آئے گا۔ تو بس یہی ہے کہ اپنی سی پوری کوشش کی جائے اور پھر باقی معاملہ قدرت پر۔ وہ جسے چاہے فاتح بنائے جسے مفتوح۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













