وزارت اطلاعات و نشریات نے وادیٔ تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کروانے کی مبینہ خبروں کو بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
ایک بیان میں وزارت اطلاعات و نشریات نے واضح کیا ہے کہ وفاقی حکومت یا مسلح افواج کی جانب سے وادیٔ تیراہ کو خالی کروانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا، ان دعووں کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا، سیکیورٹی اداروں کے خلاف غلط معلومات دینا اور ذاتی و سیاسی مفادات کا حصول ہے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی وادی تیراہ آپریشن کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟
بیان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں اور ان کارروائیوں کے دوران پُرامن شہریوں کی زندگی پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔
وزارت نے مزید کہا کہ ان کارروائیوں کے لیے کسی قسم کی آبادی کی منتقلی یا ہجرت کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ایسا کچھ کیا جا رہا ہے۔ مقامی آبادی خود بھی وادی میں امن و استحکام چاہتی ہے اور خوارج کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) January 24, 2026
خیبر پختونخوا حکومت کے ریلیف، بحالی اور آبادکاری کے محکمے نے 26 دسمبر 2025 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جس کے تحت 4 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔ وزارت نے وضاحت کی کہ یہ رقم تیراہ کے بعض علاقوں میں ممکنہ، عارضی اور رضاکارانہ آبادی کی نقل و حرکت کے پیشِ نظر مختص کی گئی ہے۔ اس کا مقصد پیشگی تیاری اور امدادی اقدامات کرنا ہے، جس میں ٹرانسپورٹ، خوراک کی فراہمی، نقد امداد، اور عارضی قیام و رجسٹریشن مراکز کا قیام شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیے: تیراہ میں خوارج کی فائرنگ سے پُرامن شہریوں کی شہادت قابل مذمت ہے، وزیراعظم شہباز شریف
ڈپٹی کمشنر خیبر کے مطابق یہ مجوزہ رضاکارانہ نقل مکانی مقامی آبادی کی رائے اور خواہشات کی عکاسی کرتی ہے، جو ضلعی سطح پر منعقد ہونے والے نمائندہ جرگے کے ذریعے سامنے آئی۔ اس میں موسمی حالات، انتظامی سہولیات اور دیگر مقامی عوامل کو مدنظر رکھا گیا ہے اور یہ عمل کیمپوں کے بغیر بھی انجام دیا جائے گا۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت یا کسی عہدیدار کی جانب سے میڈیا کو دیا گیا کوئی بھی بیان، جس میں اس نقل مکانی کو مسلح افواج سے جوڑا گیا، سراسر غلط اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ وزارت نے اس طرح کے بیانات کو سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے کی یہ کوشش انتہائی افسوسناک ہے۔













