وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے وفاقی حکومت کی جانب سے آئینی طور پر واجب الادا رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو باضابطہ خط ارسال کر دیا ہے جس میں شدید مالی بحران پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مجھے نااہل کرانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا دعویٰ
خط میں وزیراعلیٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی منتقلیوں میں مسلسل تاخیر صوبے کی گورننس، بجٹ عمل درآمد اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی بجٹ آئینی مالی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا تھا تاہم اصل مالی ریلیز بجٹ اہداف سے کہیں کم رہی۔
وزیراعلیٰ نے نشاندہی کی کہ خیبر پختونخوا دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن صوبہ ہے اور انسداد دہشتگردی، سیلاب بحالی اور عارضی بے گھر افراد کی دیکھ بھال جیسے بھاری قومی اخراجات برداشت کر رہا ہے جو غیر منصفانہ طور پر صوبے پر ڈالے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیٹ ہائیڈل منافع، تیل و گیس رائلٹیز اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت منتقلیاں صوبے کے آئینی واجبات ہیں، تاہم معمول کی ماہانہ این ایف سی منتقلیوں کی روک تھام آئین اور کوآپریٹو فیڈرلزم کی صریح خلاف ورزی ہے۔
مزید پڑھیے: یتیم اور بے سہارا بچیاں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی مہمان بن گئیں، تحائف تقسیم
خط کے مطابق وفاقی قابل تقسیم پول سے 658 ارب روپے کے مقابلے میں صوبے کو اب تک صرف 604 ارب روپے موصول ہوئے، جس کے باعث 54 ارب روپے کی مالی کمی (شارٹ فال) کا سامنا ہے۔ اس مالی خلا نے کیش مینجمنٹ، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی خدمات پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ ضم شدہ اضلاع کے لیے صوبائی سطح پر 292 ارب روپے مختص کیے گئے تاہم وفاق کی جانب سے اب تک صرف 56 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں، جس سے انضمام کے مقاصد کو نقصان پہنچا اور قومی یکجہتی کمزور ہوئی ہے۔
خط میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام واجب الادا رقوم، بشمول این ایف سی منتقلیاں، نیٹ ہائیڈل منافع، تیل و گیس رائلٹیز اور ضم شدہ اضلاع کے فنڈز فوری اور غیر مشروط طور پر جاری کیے جائیں بصورت دیگر مالی دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا کو ملنے والے 500 ارب روپے کہاں ہیں؟
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے معاملے کی سنگینی کے پیش نظر وزیراعظم سے ذاتی طور پر فوری توجہ دینے کی بھی درخواست کی ہے۔













