ٹی20 ورلڈ کپ کے ممکنہ بائیکاٹ کے معاملے پر بھارتی میڈیا نے پاکستان کو خوفزدہ کرنے اور کڑی کارروائیوں کی دھمکیاں دینے کی مہم شروع کردی ہے، تاہم یہ کوششیں ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔
بھارتی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اگر پاکستان ورلڈ ٹی20 کا بائیکاٹ کرتا ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی اور اس کا اثر پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) پر بھی پڑ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت میں مہلک وائرس پھیل گیا، ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 شدید خطرات سے دوچار
بھارتی میڈیا کے مطابق آئی سی سی کی ہدایت پر مختلف کرکٹ بورڈز اپنے کھلاڑیوں کو پی ایس ایل میں شرکت کی اجازت دینے سے انکار کر سکتے ہیں جبکہ پاکستان کی دستبرداری کی صورت میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سخت اور سنگین کارروائی کر سکتی ہے۔
بھارتی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ آئی سی سی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کے حالیہ بیانات سے ناخوش ہے، جن میں انہوں نے بنگلہ دیشی موقف کی کھل کر حمایت کی تھی۔
دوسری جانب اسپورٹس جرنلسٹ فیضان لاکھانی نے بھارتی میڈیا کے ان دعوؤں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آئی سی سی کھلاڑیوں کو مختلف لیگز کھیلنے کے لیے این او سی جاری نہیں کرتی، بلکہ یہ اختیار کھلاڑیوں کے اپنے متعلقہ ہوم بورڈز کے پاس ہوتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اسی طرح ایشیا کپ کی میزبانی کا فیصلہ بھی آئی سی سی نہیں بلکہ ایشین کرکٹ کونسل کرتی ہے، جس کی سربراہی اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس ہے۔
The ICC does not issue NOCs to players for leagues – that authority is with the players’ respective home boards. The ICC also does not decide the host of the Asia Cup – that responsibility lies with the Asian Cricket Council (ACC), which is currently headed by the PCB. Likewise,… https://t.co/0IojNR0qhj
— Faizan Lakhani (@faizanlakhani) January 26, 2026
فیضان لاکھانی کے مطابق آئی سی سی دو طرفہ سیریز کا شیڈول بھی تیار نہیں کرتی، بلکہ یہ فیصلے باہمی طور پر متعلقہ ممالک کی مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئی سی سی آخر پاکستان کے خلاف کس بنیاد پر کوئی فیصلہ کر سکتی ہے۔
’اگر پاکستان ٹیم کو حکومتی سطح پر شرکت سے روکا جاتا ہے تو آئی سی سی کے پاس عملی طور پر بہت کم اختیارات رہ جاتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہاکہ اس حوالے سے ماضی میں واضح مثالیں موجود ہیں، جب دیگر ٹیموں نے بھی اپنی حکومتوں کے مشورے پر عمل کیا اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
اسپورٹس جرنلسٹ کے مطابق جو لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ آئی سی سی ورلڈ ٹی20 سے دستبرداری کی صورت میں پاکستان پر پابندیاں عائد کرے گی، وہ غلطی پر ہیں۔
مزید پڑھیں: ’ٹی20 ورلڈ کپ سے متعلق حکومت کا فیصلہ قبول ہوگا‘، محسن نقوی کی قومی ٹیم کے کھلاڑیوں سے ملاقات
واضح رہے کہ فیضان لاکھانی نے ذاتی طور پر اس بات کی حمایت نہیں کی کہ پاکستان کو ورلڈ ٹی20 سے دستبردار ہونا چاہیے، تاہم ان کے مطابق بھارتی میڈیا کی جانب سے پھیلایا جانے والا خوف اور دباؤ بے بنیاد ہے۔













