بلوچ یکجہتی کمیٹی جیسے گروہوں کی وکالت، ایمان مزاری کا مؤقف ریاست دشمن عناصر کے بیانیے سے ہم آہنگ

پیر 26 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خود کو انسانی حقوق کی وکیل قرار دینے والی ایمان زینب مزاری ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہیں، جہاں سیاسی اور ریاستی حلقوں کی جانب سے ان پر بلوچ یکجہتی کمیٹی جیسے متنازع گروہوں کی وقتاً فوقتاً حمایت کرنے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایمان مزاری کا اداروں کے خلاف پراپیگنڈہ، سزا کے بعد تقاریر زیر بحث

ریاستی و سکیورٹی حلقوں کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی کو ریاست دشمن عناصر سے جوڑا جاتا رہا ہے، جبکہ ایمان مزاری مختلف مواقع پر اس تنظیم کے بیانیے کی حمایت کرتی نظر آئیں، جس سے ان کے ریاست مخالف رجحانات پر سوالات اٹھتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایمان مزاری کی تقاریر اور بیانات میں ریاستی اداروں، خصوصاً افواجِ پاکستان اور انٹیلی جنس اداروں کے خلاف سخت اور اشتعال انگیز زبان استعمال کی جاتی رہی ہے، جو بالواسطہ طور پر ان عناصر کے مؤقف کو تقویت دیتی ہے جو ریاستی رِٹ کو چیلنج کرتے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری نہ صرف جبری گمشدگیوں اور بدامنی کا ذمہ دار براہِ راست ریاستی اداروں کو ٹھہراتی رہی ہیں بلکہ وہ سول نافرمانی، احتجاجی تحریکوں اور ریاستی نظام کے بائیکاٹ جیسے اقدامات کی بھی حمایت کرتی رہی ہیں، جنہیں قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

سیاسی حلقوں کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی جیسے گروہوں کی حمایت یا ان کے بیانیے کو انسانی حقوق کے نام پر آگے بڑھانا دراصل ریاست مخالف سوچ کو فروغ دینے کے مترادف ہے، جس سے معاشرے میں انتشار اور اداروں کے خلاف نفرت کو ہوا ملتی ہے۔

مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ اختلافِ رائے جمہوری حق ضرور ہے، تاہم جب یہ اختلاف ریاست دشمن عناصر کے مؤقف سے ہم آہنگ ہو جائے تو اسے آزادیِ اظہار کے بجائے ریاستی مفادات کے خلاف سرگرمی تصور کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: راجا ناصر عباس کی ایمان مزاری کے کیس میں مداخلت پر سوالات اٹھنے لگے

واضح رہے کہ ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر کو متنازع ٹوئٹس کیس میں حال ہی میں مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے، جس کے بعد ان کی سرگرمیوں، بیانات اور مبینہ ریاست مخالف روابط پر بحث میں مزید تیزی آ گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پریانکا چوپڑا ملک چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئیں؟ بالی ووڈ پروڈیوسر کے انکشافات

بھاٹی گیٹ سانحہ: وزیر اطلاعات پنجاب سمیت افسران کیخلاف مقدمے کی درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر

تیراہ آپریشن: پاکستان کے دہشتگرد مخالف اقدامات کے حقائق عوام کے سامنے

سپریم کورٹ: 40 تولہ حق مہر پر اعتراض، چیف جسٹس کا شوہر کو ادائیگی کا مشورہ

اسلام آباد میں نئے کنونشن سینٹر کی تعمیر، محسن نقوی کا مجوزہ جگہ کا دورہ

ویڈیو

سخت شرائط کے باوجود اسٹینڈ بائی پروگرام حاصل کیا اور پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالا، شہباز شریف

کیا محمود اچکزئی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کروا پائیں گے؟

 خون جما دینے والی سردی کا توڑ لاندی جو گھروں سے نکل کر ہوٹل تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

ایک تھا ونڈر بوائے