حکومت پنجاب نے بسنت کے دوران مذہبی ہم آہنگی اور امنِ عامہ برقرار رکھنے کے لیے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق جاری احکامات کے تحت پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات، کسی مذہبی یا سیاسی شخصیت کی تصاویر لگانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ کسی ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر والی پتنگیں بھی ممنوع قرار دی گئی ہیں۔
ترجمان کے مطابق 30 روز کے لیے مذہبی و سیاسی نقش و نگار والی پتنگوں کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال پر پابندی ہو گی، تاہم بسنت کے دوران بغیر تصویر یک رنگی یا کثیر رنگی گُڈا اور پتنگ استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بسنت کے دنوں میں پنجاب حکومت نے 132 پنجابی گانوں پر پابندی کیوں لگا دی؟
بیان کے مطابق خلافِ قانون پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال قابلِ تعزیر جرم ہو گا۔ بسنت کے موقع پر اشتعال انگیز عناصر کی جانب سے مذہبی یا سیاسی علامات کے استعمال کا اندیشہ تھا، جس کے پیشِ نظر یہ اقدامات کیے گئے۔ دفعہ 144 کے تحت احکامات فوری نافذ العمل ہوں گے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت کارروائی کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
حکومت پنجاب نے لاہور میں 6 سے 8 فروری تک محفوظ بسنت کی مشروط اجازت دی ہے، جبکہ ڈپٹی کمشنر لاہور نے پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے تحت بسنت 2026 کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ حکومت کے مطابق بسنت کو ایک تفریحی تہوار کے طور پر منانے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم کسی قسم کی قانون شکنی برداشت نہیں کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور: بسنت کے محفوظ انعقاد کے لیے ڈور، گڈا اور پتنگ بنانے کے عمل کی کڑی نگرانی
ترجمان نے مزید بتایا کہ پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے تحت دھاتی تار، نائلون یا شیشے سے لیپ شدہ ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی ہے۔ خطرناک ڈور اور پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
مقررہ تاریخوں سے قبل پتنگ بازی کرنے پر 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ، جبکہ ممنوعہ مواد کی تیاری یا فروخت میں ملوث افراد کو 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔














