امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس کے ہتھیار ڈالنے کے عمل کے دوران فلسطینی گروپ کے لیے ‘کسی قسم کی معافی’ دی جا سکتی ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب غزہ میں آخری اسرائیلی قیدی کی لاش بازیاب ہوئی، جو اکتوبر میں طے پانے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار کرتی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اہلکار نے بتایا کہ حماس کے کئی افراد ہتھیار ڈالنے کی باتیں کر رہے ہیں اور اگر وہ ہتھیار نہ ڈالیں تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہتھیار ڈالنے کے ساتھ ساتھ کچھ قسم کی معافی بھی زیر غور ہے، اور امریکی انتظامیہ کے پاس حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک مضبوط پروگرام موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیے: تائیوان کے لیے امریکا اپنے فوجی قربان نہیں کرے گا، چینی ماہر
الجزیرہ کی رپورٹر روزیلینڈ جورڈن کے مطابق، اہلکار نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ معاہدے کے تحت حماس کے سیاسی حیثیت کے اعتراف اور معافی پر بات ہو رہی ہے۔
حماس نے کہا کہ قیدیوں کی لاشیں واپس کرنے سے اس کی جنگ بندی میں پابندی ظاہر ہوتی ہے اور اس نے اپنی ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں۔ اس نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ بھی معاہدے پر مکمل عمل کرے، جس میں رفح کراسنگ کھولنا، ضروری اشیا کی فراہمی، پابندیاں ختم کرنا اور نیشنل کمیٹی کے کام کو آسان بنانا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیے: حماس نے نئی قیادت کے انتخاب کے لیے تیاریاں شروع کردیں
ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ منصوبے کے مطابق، قیدیوں کی واپسی کے بعد وہ حماس کے ارکان جو ہتھیار جمع کروائیں گے انہیں معافی دی جائے گی اور جو غزہ چھوڑنا چاہیں گے انہیں محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔ منصوبے میں امداد کے آزادانہ بہاؤ اور رفح سرحدی کراسنگ کے دوبارہ کھلنے کی وضاحت بھی شامل ہے۔
اسی دوران ترک وزیر خارجہ حقان فدان نے حماس کے اہلکاروں سے انقرہ میں ملاقات کی اور جنگ بندی کے دوسرے مرحلے اور انسانی حالات پر بات کی، اور کہا کہ ترکی فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر کوششیں جاری رکھے گا۔














