وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز اور انسانی وسائل چوہدری سالک حسین نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہنر مندی، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور شفاف بھرتی نظام کے فروغ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاکہ پاکستانی محنت کش بین الاقوامی معیار کے مطابق مواقع سے مستفید ہو سکیں۔
وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز اور انسانی وسائل چوہدری سالک حسین نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ تیسری گلوبل لیبر مارکیٹ کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی اور ملک کی جدید لیبر پالیسیوں اور ہنرمندی کی تیاری کے عزم کو اجاگر کیا۔
یہ بھی پڑھیے سمندر پار پاکستانیوں کے پاسپورٹ بلاک کیے جانے کیخلاف چوہدری سالک کا وزرات داخلہ کو خط
وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری سالک حسین نے کہا کہ پاکستان میں لیبر مارکیٹ میں اصلاحات، طلب کے مطابق مہارتوں کی تیاری، اور ڈیجیٹل بیورو آف امیگریشن کے قیام پر کام جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تربیتی نصاب کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے تاکہ نوجوان عالمی لیبر مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق تیار ہوں۔
ترقی پذیر شعبوں پر خصوصی توجہ
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی ترجیح ان شعبوں میں مہارت بڑھانا ہے جو تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، جیسے تعمیرات، صحت، آئی ٹی، لاجسٹکس اور گرین جابز۔
چوہدری سالک حسین نے زور دیا کہ شفاف اور اخلاقی بھرتی نظام، محنت کشوں کے لیے آسان نقل و حرکت، اور قومی سطح پر مرکزی پالیسی سازی نہایت اہم ہیں۔
یہ بھی پڑھیے بیرون ملک بھیک مانگنے کی وجہ سے پاکستانیوں کا امیج خراب ہوتا ہے، سالک حسین
کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر نے سعودی عرب، عمان اور فلپائن کے وزراء اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں، جس میں دو طرفہ لیبر معاہدے، مہارتوں کی شراکت داری اور لیبر موبیلٹی کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
کانفرنس کی دیگر سرگرمیاں
چوہدری سالک حسین نے مساند کے دسویں سال کی تقریب میں شرکت کی اور منظم و اخلاقی بھرتی نظام کو سراہا۔ عالمی کمپنیوں کے نمائش اسٹالز کا دورہ کیا۔ گلوبل لیبر مارکیٹ اکیڈمی کی گریجویشن تقریب میں بھی شریک ہوئے۔














