لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد سیکریٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کی سربراہی میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں لاہور میں 6، 7 اور 8 فروری کو ہونے والی بسنت کو محفوظ بنانے کے لیے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں انتظامیہ، پولیس، محکمہ صحت، ریسکیو 1122، محکمہ تعلیم اور والڈ سٹی کے حکام نے اپنے اپنے شعبوں کے حوالے سے انتظامات کی بریفنگ دی۔ ڈی جی پبلک ریلیشنز نے عوامی آگاہی مہم کے حوالے سے بھی اجلاس کو تفصیلی معلومات فراہم کیں۔
مزید پڑھیں: لاہور: بسنت پر اشتعال انگیزی روکنے کے لیے دفعہ 144 نافذ، پتنگوں پر مذہبی و سیاسی تحریریں لکھنے پر پابندی
سیکریٹری داخلہ نے کہاکہ بسنت پنجاب کا تاریخی تہوار ہے اور اسے مثبت انداز میں منانے کے لیے مکمل انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے اساتذہ کو ہدایت کی کہ وہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ کو بسنت کے دوران حفاظتی اقدامات سے آگاہ کریں۔
اجلاس میں محکمہ صحت، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس، پولیس اور دیگر انتظامی اداروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ بسنت کے دوران فیلڈ میں مکمل طور پر مستعد رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔
سیکریٹری داخلہ نے واضح کیاکہ بسنت کے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ بغیر بار کوڈ والے ڈور اور گڈے بنانے یا فروخت کرنے والوں کے خلاف بھی قانونی کاروائی ہوگی، اور ممنوعہ سامان کی تیاری و ترسیل کرنے والوں کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہاکہ حکومت پنجاب نے اس سال بسنت کی شکل میں اہل لاہور کے لیے ایک تحفہ پیش کیا ہے، اور تمام شہریوں پر لازم ہے کہ وہ بسنت کو محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
مزید پڑھیں: لاہور: بسنت کے محفوظ انعقاد کے لیے ڈور، گڈا اور پتنگ بنانے کے عمل کی کڑی نگرانی
اجلاس میں سی سی پی او لاہور، اسپیشل سیکریٹری داخلہ، کمشنر لاہور، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ، سی ٹی او لاہور، ڈپٹی کمشنر لاہور، ڈی جی والڈ سٹی اتھارٹی، ڈی جی پبلک ریلیشنز اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران بھی شریک ہوئے۔













