مینوپاز (خواتین میں مخصوص ایام کا سلسلہ بند ہوجانا) دماغ میں ایسی تبدیلیاں پیدا کر سکتی ہے جو الزائمر کی بیماری میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اکثر افراد کو درپیش ’دماغی دھند‘ کیا ہے، قابو کیسے پایا جائے؟
بی بی سی کے مطابق برطانوی محققین کا کہنا ہے کہ یادداشت اور جذبات سے متعلق دماغی حصوں میں سرمئی مادے (گرے میٹر) کا نقصان خواتین میں ڈیمینشیا کے زیادہ خطرے کی وجہ سمجھا جا سکتا ہے۔
اس حوالے سے کی گئی ایک اسٹڈی میں تقریباً 1,25,000 خواتین شامل تھیں جن میں سے 11,000 کی ایم آر آئی اسکین بھی کی گئی۔
نتائج کے مطابق ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی گرے میٹر کے نقصان کو روکنے میں مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔
کیمبرج یونیورسٹی کی پروفیسر باربرا ساہاکین نے کہا کہ ہم نے دماغ کے وہ حصے متاثر پائے جو عام طور پر الزائمر میں متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مینوپاز ان خواتین کو مستقبل میں مزید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے کیلشیم اور وٹامن ڈی ناگزیر، ماہرین
دماغی تبدیلیاں خاص طور پر 3 اہم علاقوں میں دیکھی گئیں جن میں ہپوکیمپس (سیکھنے اور یادداشت میں اہم کردار)، اینٹیریل کورٹیکس (یادداشت بنانے اور جگہ کی شناخت میں مددگار) اور اینٹیریئر سینگیولیٹ کورٹیکس (توجہ اور جذبات کے کنٹرول میں معاون) شامل تھیں۔
محققین نے کہا کہ مینوپاز صرف جسمانی اثرات نہیں لاتی بلکہ ذہنی صحت پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔
ڈاکٹر کرسٹیل لینگلے نے کہا کہ خواتین کی ذہنی اور جسمانی صحت کے بارے میں حساس ہونا ضروری ہے اور مدد مانگنے میں شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے۔
مزید پڑھیں: خوشی، محبت و دیگر جذبات کے ہارمونز کونسے، یہ ہمارے دماغ پر کیسے حکومت کرتے ہیں؟
ہارمونز کے ماہر پروفیسر چنّا جیسینا نے کہا کہ ایچ آر ٹی کے دماغی اثرات پر تحقیق ابھی جاری ہے اور برطانیہ میں لاکھوں خواتین کے لیے یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔
الزائمر سوسائٹی کی مشیل ڈائسن نے کہا کہ خواتین برطانیہ میں الزائمر کے مریضوں کا تقریباً 2 تہائی حصہ ہیں اور ہارمونل تبدیلیاں اس میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: عمر کے مختلف مراحل میں غذائی اجزا کی اہمیت: کس عمر میں کون سی خوراک مفید ہے
محققین نے تجویز دی کہ باقاعدہ ورزش، سگریٹ نوشی سے پرہیز اور شراب کی مقدار محدود رکھنے سے ڈیمینشیا کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔














