یونان میں دنیا کے قدیم ترین لکڑی کے اوزار دریافت، لاکھوں سال محفوظ رہنے پر سائنسدان حیران

منگل 27 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سائنسدانوں نے یونان میں ایک جھیل کے کنارے سے لکڑی کے ایسے اوزار دریافت کیے ہیں جو اب تک ملنے والے قدیم ترین لکڑی کے اوزار قرار دیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: قدیم ترین فن پارے: انڈونیشیا میں 68 ہزار سال پرانی پینٹنگ دریافت

ماہرین کے مطابق یہ نوادرات تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار سال پرانے ہیں۔

تحقیق کے مطابق دریافت ہونے والے اوزاروں میں ایک پتلا لکڑی کا ڈنڈا شامل ہے جس کی لمبائی تقریباً ڈھائی فٹ ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسے کیچڑ یا زمین کھودنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہوگا۔

دوسرا اوزار نسبتاً چھوٹا ہے جو ولو یا پاپلر کے درخت کی لکڑی سے بنا ہوا معلوم ہوتا ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ اسے پتھر کے اوزار بنانے یا تراشنے میں استعمال کیا گیا ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قدیم انسان پتھر، ہڈی اور لکڑی کے مختلف اوزار استعمال کرتے تھے تاہم لکڑی کے اوزار وقت کے ساتھ گل سڑ جانے کی وجہ سے شاذ و نادر ہی محفوظ رہ پاتے ہیں۔ ایسے اوزار عموماً برف، غاروں یا پانی کے اندر جیسے مخصوص ماحول میں ہی محفوظ رہ سکتے ہیں۔

یہ نئے اوزار یونان کے علاقے میگالوپولس بیسن میں دریافت ہوئے جہاں امکان ہے کہ وہ مٹی کے نیچے جلد دب گئے اور نم ماحول کی وجہ سے محفوظ رہے۔

اس مقام سے اس سے قبل بھی پتھر کے اوزار اور ہاتھیوں کی ہڈیاں ملی تھیں جن پر کٹاؤ کے نشانات موجود ہیں۔

مزید پڑھیے: ابتدا میں انسان کس خطے میں مقیم تھا، قدیم کھوپڑی نے نئے راز کھول دیے

اگرچہ لکڑی کے اوزاروں کی براہ راست تاریخ معلوم نہیں کی جا سکی تاہم جس مقام سے یہ ملے وہ تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار سال قدیم ہے، جس سے ان اوزاروں کی عمر کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

تحقیق کی مصنفہ اور یونیورسٹی آف ریڈنگ سے وابستہ اینیمیکے ملکس کا کہنا ہے کہ ان اشیا کو ہاتھ میں لینا ہی میرے لیے ایک ناقابل یقین تجربہ ہے۔

ابھی تک اس مقام سے انسانی باقیات دریافت نہیں ہو سکیں اس لیے یہ واضح نہیں کہ یہ اوزار کس نے استعمال کیے۔

ماہرین کے مطابق یہ اوزار نینڈرتهال انسانوں، ابتدائی انسانی آباؤ اجداد یا کسی اور قدیم نسل سے تعلق رکھتے ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: نیڈرلینڈز نے مصر کو 3 ہزار 500 سال قدیم مجسمہ واپس کرنے کا اعلان کردیا

اسمتھسونین نیشنل میوزیم آف نیچرل ہسٹری کے ماہر آثار قدیمہ جیرڈ ہٹسن کا کہنا ہے کہ اس مقام پر ماضی کے مزید قیمتی شواہد موجود ہو سکتے ہیں تاہم یہ دونوں اوزار بظاہر سادہ ہونے کے باعث ان کی تشریح کرنا مشکل ہے۔

ان کے مطابق یہ فوراً لکڑی کے اوزار محسوس نہیں ہوتے اور ہمیں یقین سے نہیں معلوم کہ انہیں کس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

ماضی میں بھی جرمنی سے لکڑی کے قدیم نیزے اور چین سے تقریباً 3 لاکھ سال پرانے کھدائی کے اوزار دریافت ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: تبوک: سعودی عرب میں جزیرہ عرب کی قدیم ترین بستی کا انکشاف

ماہرین کا کہنا ہے کہ یونان سے ملنے والی یہ نئی دریافت قدیم انسانوں کی ٹیکنالوجی کے ایک کم معلوم پہلو پر روشنی ڈالتی ہے اور یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ وہ بقا کے لیے کس طرح کے اوزار استعمال کرتے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بیرون ملک پاکستانیوں کے روزگار، فلاحی مسائل اور کمیونٹی ویلفیئر اتاشیز کی کارکردگی کا جائزہ

پاکستان نے 2 سال کے لیے اقتصادی تعاون تنظیم کی چیئرمین شپ سنبھال لی

دہشتگرد وادی تیراہ میں موجود، کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں کی جائےگی، مشیر وزیراعظم رانا ثنااللہ

بلوچستان حکومت کا بڑا انتظامی فیصلہ، محکمہ مذہبی امور تحلیل کرنے کی منظوری

معروف بھارتی گلوکار اریجیت سنگھ کا پلے بیک سنگنگ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

ویڈیو

پروپیگنڈا ناکام، منہ توڑ جواب میں ہوش اڑا دینے والے ثبوت آگئے

22 لاکھ کی گاڑی کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے کی نمبر پلیٹ، پشاور میں نیا کارنامہ

گوادر: چائے کی خوشبو میں لپٹی خواتین کی خود مختاری، 3 پڑھی لکھی سہیلیوں کا کارنامہ

کالم / تجزیہ

ایک تھا ونڈر بوائے

کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی

نظر نہ آنے والے ہتھیاروں سے کیسے بچاؤ کیا جائے؟