جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے قومی اسمبلی میں مخصوص نشست پر اجنبی خاتون کو رکن بنانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ قابل افسوس ہے۔
پارٹی کے ترجمان نے سوال اٹھایا کہ الیکشن کمیشن کو کس اختیار نے دیا کہ وہ پارٹی نمائندہ خود نامزد کرے۔
مزید پڑھیں: جے یو آئی نے صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری کرنے کو حکومتی مکاری قرار دیدیا
جے یو آئی کے ترجمان نے مزید کہا کہ کے پی کے ہائی کورٹ کے حکم کو نظر انداز کرکے معاملہ ٹریبونل بھیجنا آئین و قانون کا مذاق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کے حالیہ متنازع فیصلے ان کی مدت ملازمت میں توسیع کی قیمت ہیں، الیکشن کمیشن سیاسی جماعت نہیں، بلکہ ایک قومی ادارہ کے طور پر کام کرے۔
ترجمان اسلم غوری نے کہاکہ پارٹی امیدوار کے بجائے اجنبی خاتون کو مخصوص نشست دینے کا فیصلہ حیران کن ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ پہلے رات کے اندھیرے میں دھاندلی ہوتی تھی، اب دن دیہاڑے ڈاکہ زنی شروع ہو گئی ہے، اور یہاں تو کوئی اصول و اقدار بھی نہیں رہے۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں جے یو آئی کی خواتین کی مخصوص نشست کے کیس میں الیکشن کمیشن نے حنا بی بی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے صدف احسان کو رکن قومی اسمبلی برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا ہے۔
مزید پڑھیں: تحریک انصاف کی حکومت گرانے میں اہم کردار نبھانے والی جے یو آئی بھی مائنس کردی گئی، سینیٹر کامران مرتضیٰ
الیکشن کمیشن نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے حنا بی بی کو ہدایت کی ہے کہ وہ فیصلہ چیلنج کرنے کے لیے الیکشن ٹریبونل سے رجوع کر سکتی ہیں۔














