امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کا ایک مضبوط بحری بیڑا ایران کی طرف بڑھ رہا ہے، اگر معاہدہ نہ کیا گیا تو اگلا حملہ پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ یہ بیڑا طاقتور، پرجوش اور واضح مقصد کے ساتھ ایران کی جانب روانہ ہوا ہے، جس کی قیادت طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن کررہا ہے، جو وینیزویلا بھیجے گئے بیڑے سے بھی بڑا ہے۔

مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کا امریکی ڈالر پر کیا اثر پڑ رہا ہے؟
ٹرمپ نے کہاکہ ضرورت پڑنے پر یہ بیڑا اپنے مشن کو فوری اور موثر طریقے سے مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ ایران کو چاہیے کہ جلد مذاکرات کی میز پر آئے اور ایک منصفانہ اور مساوی معاہدے کے لیے بات چیت کرے، جو تمام فریقین کے لیے قابل قبول ہو اور جس میں جوہری ہتھیار شامل نہ ہوں۔
صدر ٹرمپ نے خبردار کیاکہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور یہ معاملہ انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایران نے پہلے بھی معاہدہ کرنے سے انکار کیا تھا، جس کے بعد ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ انجام پایا، جس نے ایران کو شدید نقصان پہنچایا۔
ٹرمپ نے ایران کو واضح پیغام دیا کہ اگر معاہدہ نہ کیا گیا تو اگلا حملہ پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوگا، اور اس طرح کی صورتحال دوبارہ پیدا نہیں ہونے دی جائے گی۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں فوجی مشقوں کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی بحری جہاز ایرانی سمندری حدود میں داخل ہوئے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا تو 100 فیصد ٹیرف لگا دوں گا، ٹرمپ کی کینیڈا کو دھمکی
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران اپنی سمندری حدود کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کرے گا اور امریکی جہازوں کی آمد کی صورت میں حملے کا امکان ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی صدر بیانات تک محدود ہیں، جبکہ کسی بھی ممکنہ جنگ کا فیصلہ عملی طور پر میدان میں ہوگا۔














