سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع کیچ سے اغوا کی گئی خاتون کو بازیاب کرا لیا، جبکہ کارروائی میں بی ایل اے کے 2 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔
رپورٹس کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خاتون کے اغوا کے فوری بعد ناکہ بندی کرکے سرچ آپریشن شروع کیا۔
مزید پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، خاران بینک ڈکیتی کا ماسٹر مائنڈ بی ایل اے کمانڈر ہلاک
تربت کے قریب ایک ناکے پر مشکوک کرولا گاڑی کی نشاندہی کی گئی، جس پر کارروائی کرتے ہوئے فورسز نے 2 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، اور نرگس نامی خاتون کو محفوظ طریقے سے بازیاب کرا لیا گیا۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق نرگس نے بی ایل اے کے لیے کام کرنے سے انکار کیا تھا، جس کے بعد اسے اغوا کیا گیا۔
واضح رہے بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بالچا میں کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشتگردوں نے ایک بلوچ خاتون کو اغوا کیا تھا۔
🚨🚨بی ایل اے کی جانب سے نرگس نامی خاتون کو اغواء کیا گیا۔سیکیورٹی فورسز نے صوبہ بھر میں اسنیپ چیکنگ شروع کی۔تربت ناکے پر مشتبہ کرولا کی نشاندہی ہوئی،کارروائی میں دو دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔نرگس کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا،نرگس نے بی ایل اے کے لئے کام کرنے سے انکار کیا تھا pic.twitter.com/JmiHM81nvO
— Balochistan Insight (@BalochInsight) January 28, 2026
واقعے کے بعد سیکیورٹی ادارے اور پولیس مغویہ کی بازیابی کے لیے متحرک ہو گئے تھے، اور بالآخر کامیابی مل گئی۔
واقعہ بدھ کے روز شام ساڑھے 4 سے پونے 5 بجے کے درمیان پیش آیا، جب ایک کرولا گاڑی ایک گھر کے سامنے آ کر رکی۔ گاڑی میں سوار مسلح افراد نے نرگس نامی خاتون کو زبردستی اغوا کیا اور موقع سے فرار ہو گئے۔
خاتون کے شوہر اور بھتیجے نے اغوا کاروں کا تعاقب کیا اور ناصرآباد کے قریب گاڑی کو روک لیا، تاہم اس دوران گاڑی سے ایک مسلح شخص کلاشنکوف لے کر باہر آ گیا۔
شوہر کی مزاحمت کے باوجود پیچھے سے 2 موٹر سائیکلیں آ گئیں جن پر بی ایل اے کے جھنڈے لگے ہوئے تھے۔ موٹر سائیکل سواروں نے خاتون کے شوہر پر تشدد کیا، اس کے اور بھتیجے کے موبائل فون چھین لیے اور خاتون کو زبردستی ناصرآباد کے جنگلات کی طرف لے گئے۔
بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے عورتوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوششیں سامنے آتی رہی ہیں۔ پہلے نفسیاتی، سماجی اور جذباتی استحصال، پھر جسمانی تشدّد اور جنسی زیادتی، اور اس کے بعد بلیک میلنگ کے ذریعے خودکش حملوں پر مجبور کرنا اس حکمتِ عملی کا حصہ رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بچوں کو ہتھیار بنانے لگا، کم عمر بلوچ بچی کو سوشل میڈیا کے ذریعے خودکش بمبار بنانے کی کوشش ناکام
تشویش ناک حقیقت یہ بھی ہے کہ بعض معاملات میں اغوا شدہ عورتوں کو جنسی غلامی کے لیے رکھا جاتا ہے۔ انہیں خوف، بدنامی اور جان کے خطرے کے ذریعے قابو میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ مزاحمت نہ کر سکیں اور تنظیم کے مقاصد کے لیے استعمال ہوتی رہیں۔














