وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن روزانہ کی بنیاد پر ہورہے ہیں، صوبے میں کسی بڑے آپریشن یا گورنر راج سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر خیبرپختونخوا کے کوئی فنڈز باقی ہیں تو وفاق کو ادا کرنے چاہییں، لیکن صوبائی حکومت پہلے ادا کیے گئے فنڈز کا حساب تو دے۔
مزید پڑھیں: وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن مقامی لوگوں کے تعاون سے ہو رہے ہیں، کسی بڑے آپریشن کا کوئی منصوبہ نہیں۔
انہوں نے کہاکہ تیراہ دہشتگردی سے شدید متاثر ہے، وہاں اگر بڑا آپریشن ہوگا تو شہریوں کو بھی نقصان ہو سکتا ہے، ابھی تک علاقے میں کوئی دستہ نہیں بھیجا گیا، جب ضرورت ہو گی تو بھیجیں گے۔
وزیر دفاع نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں پاک فوج اور ریاست کے خلاف جذبات ابھارنے کی کوشش ہو رہی ہے، پی ٹی آئی میں مختلف قسم کی آوازیں ہیں، جو باہر بیٹھے ہیں ان کی زبان کچھ اور ہے۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان فیملی، اسمبلی ارکان کا مؤقف الگ ہے، جبکہ جو لوگ چھپے ہیں ان کی آواز کچھ اور ہے۔
خواجہ آصف نے کہاکہ اپوزیشن میں پی ٹی آئی اکثریتی پارٹی ہے، یہ اپوزیشن لیڈر اپنا کیوں نہیں لائے؟ محمود اچکزئی کے ساتھ جو تحریک انصاف نے کیا وہ سب جانتے ہیں، اگر میں ان کی جگہ میں ہوتا تو کبھی پی ٹی آئی پر اعتبار نہ کرتا۔
انہوں نے کہاکہ افغانستان سے دہشتگردوں کو سہولت فراہم کی جاتی ہے، جس پر ہمیں تشویش ہے۔ خیبرپختونخوا میں ہمارے فوجی جوانوں کو دہشتگردوں نے بے دردی سے شہید کیا۔
وزیر دفاع نے مزید کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت فنڈز کی بات تو کرتی ہے مگر وہاں سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، وہاں کے عوام پنجاب میں آتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی فلمی ڈائیلاگ بول رہے ہیں، ان کی خود کو مارنے والی بات پشتو یا پنجاب فلم کا اسکرپٹ لگتا ہے۔
مزید پڑھیں: وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کو فوج سے جوڑنا سراسر غلط ہے، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک دشمن ملک جو کر سکتا ہے وہ افغانستان کررہا ہے، ترکیہ کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ ہو سکتا ہے۔














