برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بنیادوں پر استوار کرنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے معاشی ترقی اور سکیورٹی تعاون کو ترجیح دینے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ ملاقات بیجنگ میں گریٹ ہال آف دی پیپل میں ہوئی، جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ ظہرانہ بھی کیا۔ کیئر اسٹارمر کا یہ دورہ 8 برس بعد کسی برطانوی وزیراعظم کا چین کا پہلا دورہ ہے، جسے لندن اور بیجنگ کے درمیان کشیدہ تعلقات کے بعد ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لندن اور بیجنگ میں قربت؟ برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر کا چین کا اہم دورہ شروع
کیئر اسٹارمر نے ملاقات کے آغاز پر کہا کہ چین عالمی سیاست اور معیشت میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے، اس لیے برطانیہ چاہتا ہے کہ چین کے ساتھ ایک مہذب اور سنجیدہ تعلق قائم کیا جائے، جس میں تعاون کے مواقع تلاش کیے جائیں اور اختلافی معاملات پر بامعنی مکالمہ بھی جاری رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی حالات کا براہ راست اثر گھریلو معیشت، روزمرہ قیمتوں اور عوام کے احساسِ تحفظ پر پڑتا ہے، اسی لیے برطانیہ کو دوبارہ دنیا کی طرف کھل کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
Keir Starmer finally makes it to Beijing after 8 long years… and this is the exciting welcome speech we get? 😴
Meanwhile the real question: Why are UK, Canada & Australia suddenly racing to be China's new besties? 🤔#StarmerInChina #FollowTheMoney pic.twitter.com/iccJl6Uczp— Aprajita Nafs Nefes 🦋 Ancient Believer (@aprajitanefes) January 29, 2026
چینی صدر شی جن پنگ نے اس موقع پر کہا کہ ماضی میں دونوں ممالک کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہا، جو کسی کے مفاد میں نہیں تھا۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ چین برطانیہ کے ساتھ طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری کے لیے تیار ہے۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مغربی ممالک چین کے ساتھ دوبارہ سفارتی روابط بڑھا رہے ہیں، خاص طور پر امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیوں اور تجارتی دھمکیوں کے باعث اتحادی ممالک اپنے لیے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔ اسٹارمر کا دورہ کینیڈین وزیراعظم کے حالیہ چین دورے کے فوراً بعد ہوا ہے، جس میں تجارتی رکاوٹیں کم کرنے پر معاہدہ طے پایا تھا۔
برطانوی حکومت کے مطابق اس دورے کے دوران انسانی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات کا بھی اعلان متوقع ہے، جس کے تحت غیر قانونی تارکینِ وطن کو یورپ منتقل کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف تعاون بڑھایا جائے گا۔ اس معاہدے میں معلومات کے تبادلے اور اسمگلنگ میں استعمال ہونے والے آلات کی فراہمی روکنے پر توجہ دی جائے گی۔
🇬🇧🇨🇳 UK PM Keir #Starmer said that his country doesn't have to choose between relations with #Washington and #Beijing as he started a four-day trip to #China, aimed at repairing ties and expanding opportunities for British companies in the world’s second-largest economy ⤵️ pic.twitter.com/Z3hfEUandU
— FRANCE 24 English (@France24_en) January 28, 2026
اگرچہ برطانیہ میں اپوزیشن اور سیکیورٹی ادارے چین کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں، تاہم اسٹارمر کے ساتھ 50 سے زائد کاروباری رہنماؤں کی موجودگی اس بات کی عکاس ہے کہ اس دورے میں اصل توجہ معاشی تعاون اور تجارتی مواقع کے فروغ پر مرکوز ہے۔
برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات کو ایک بالغ اور حقیقت پسندانہ انداز میں آگے بڑھایا جائے۔












