ایمی ایوارڈ یافتہ فلسطینی صحافی بسان عودہ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ مستقل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ بسان عودہ کے ٹک ٹاک پر 14 لاکھ فالوورز تھے اور وہ گزشتہ 4 برسوں سے اس پلیٹ فارم پر غزہ کی صورتحال دنیا کے سامنے لا رہی تھیں۔
انسٹاگرام اور ایکس پر اعلان
بسان عودہ، جو الجزیرہ کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم AJ+ سے وابستہ ہیں، نے بدھ کے روز انسٹاگرام اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ویڈیو پیغام میں بتایا کہ ان کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ اچانک ڈیلیٹ کر دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ٹک ٹاک نے میرا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا، میں سمجھ رہی تھی کہ شاید پابندی لگے گی، مگر مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا، یہ توقع نہیں تھی۔
مختلف ممالک میں مختلف صورتحال
الجزیرہ کی جانب سے ٹک ٹاک سے بسان عودہ کے اکاؤنٹ سے متعلق وضاحت طلب کی گئی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آسٹریلیا میں وہی صارف نام رکھنے والا اکاؤنٹ نظر آیا، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں یہ اکاؤنٹ دستیاب نہیں تھا، جس سے علاقائی پابندیوں کے شبے کو تقویت ملی ہے۔
اسرائیلی قیادت اور امریکی ٹک ٹاک انتظامیہ پر سوال
بسان عودہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے گزشتہ بیانات اور ٹک ٹاک امریکا کے نئے سی ای او ایڈم پریسر کے خیالات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پابندی انہی عوامل کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔
نیتن یاہو نے گزشتہ برس نیویارک میں پرو اسرائیلی انفلوئنسرز سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ سوشل میڈیا، خاص طور پر ٹک ٹاک ’جدید جنگ کا اہم ہتھیار‘ ہے۔
ٹک ٹاک میں تبدیلیاں اور مواد کی نگرانی
ایڈم پریسر کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ ٹک ٹاک پر بعض اصطلاحات، جن میں ’صہیونیت‘ بھی شامل ہے، کو نفرت انگیز مواد کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نفرت انگیز مواد کی نگرانی ایک مسلسل عمل ہے۔
’میں اب بھی زندہ ہوں‘، غزہ سے رپورٹنگ کی علامت
بسان عودہ غزہ سے روزانہ ویڈیوز پوسٹ کرنے کے باعث عالمی سطح پر پہچانی جاتی ہیں، جن کا مشہور جملہ تھا:
’یہ بسان ہے، غزہ سے، اور میں اب بھی زندہ ہوں۔‘
اسی عنوان سے انہوں نے AJ+ کے ساتھ ایک دستاویزی فلم بھی بنائی، جسے 2024 میں ایمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
صحافیوں کی سلامتی پر تشویش
یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی عدالت نے ایک بار پھر غیر ملکی صحافیوں کو غزہ میں آزادانہ رپورٹنگ کی اجازت دینے کا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک 207 فلسطینی صحافی اور میڈیا ورکرز جاں بحق ہو چکے ہیں، جن کی اکثریت اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنی۔












