وسطی چین میں ایک 8 سالہ بچہ جو 55 دن تک کومے میں رہا، اپنے ہم جماعتوں کے دل کو چھو لینے والے ویڈیو پیغامات اور اسکول کی مانوس آوازیں سننے کے بعد ہوش میں آ گیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق، ہونان صوبے کے شہر یوئے یانگ سے تعلق رکھنے والا بچہ لیو چو شی گزشتہ سال نومبر میں ایک ٹریفک حادثے کا شکار ہوا تھا جس کے نتیجے میں وہ شدید دماغی چوٹ اور پھیپھڑوں کے نقصان کے باعث کومے میں چلا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: 2 سالہ اسنوکر کھلاڑی نے ٹرک شاٹس کے عالمی ریکارڈ قائم کردیے
چینی میڈیا ادارے کے مطابق ڈاکٹروں نے اس کے اہلِ خانہ کو آگاہ کر دیا تھا کہ اس کے دوبارہ ہوش میں آنے کے امکانات انتہائی کم ہیں لیکن اس کے باوجود بچے کی والدہ نے ہمت نہیں ہاری اور علاج کی تلاش میں اپنے بیٹے کو مختلف اسپتالوں میں لے کر جاتی رہیں۔
اسی دوران ایک معالج نے مشورہ دیا کہ مانوس آوازیں اور پسندیدہ موسیقی دماغ کے مخصوص حصوں کو متحرک کر کے بحالی کے عمل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کاکروچز سے مگرمچھ تک، لالاموو کے رائیڈرز کو ملنے والی حیران کن ڈیلیوریز نے سب کو چونکا دیا
ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے لیو کی والدہ نے اسکول میں بجنے والی صبح کی اسمبلی کی موسیقی اور ورزش کے گانے ریکارڈ کر کے روزانہ بچے کے بستر کے قریب چلانا شروع کیے۔ اس کے ساتھ ہی لیو کے استاد نے اس کے ہم جماعتوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنے دوست کے لیے حوصلہ افزا ویڈیو پیغامات ریکارڈ کریں۔
ان ویڈیوز میں ایک بچے نے کہا ’چو شی، جلدی ہوش میں آ جاؤ ہم دوبارہ فٹبال کھیلیں گے‘۔ ایک اور ویڈیو میں ایک لڑکی نے کہا کہ ہم سب تمہیں بہت یاد کر رہے ہیں چو شی۔ اگر تم ہمیں سن سکتے ہو تو براہِ کرم آنکھیں کھولو۔ امتحانات قریب ہیں اور ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں کہ تم واپس آؤ اور ہمارے ساتھ پڑھو‘۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں درختوں کے لیے کیو آر کوڈنگ سسٹم کا آغاز
ایک لڑکے نے لیو کا پسندیدہ گانا گایا جبکہ دیگر بچوں نے کلاس روم کی مزاحیہ باتیں شیئر کیں۔ لیو کی والدہ نے اس کے استاد کے ریاضی کے اسباق کی ریکارڈنگز بھی چلائیں تاکہ اسپتال کا کمرہ اسکول کی روزمرہ زندگی کی آوازوں سے بھر جائے۔
کومے کے 45ویں دن لیو نے پہلی بار آنکھوں کی پلکیں ہلانا شروع کیں۔ چند دن بعد جب اس نے اپنے استاد کی آواز سنی تو وہ مسکرا دیا۔ 55ویں دن وہ مکمل طور پر ہوش میں آ گیا اور اپنا بایاں ہاتھ ہلانے کے قابل ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: گریٹ فالز میں موجود پراسرار سائیکلیں شہریوں کے لیے معمہ بن گئیں
بعد ازاں اس کے استاد اور ہم جماعت اسپتال آئے اس کے لیے کھلونے اور ہاتھ سے بنے کارڈز لائے۔ استاد نے مذاق میں لیو سے کہا کہ اسے ہوم ورک سے چھوٹ ملے گی جس پر لڑکے نے آنکھیں مزید کھولنے کی کوشش کی اور ہاتھ ہلا کر ردِعمل دیا۔
لیو کی والدہ نے اس لمحے کو زندگی بدل دینے والا قرار دیا اور کہا کہ ’مجھے آخرکار بادلوں کے پیچھے سورج نظر آ گیا۔ واقعی ایک معجزہ ہو گیا‘۔ انہوں نے ڈاکٹروں، اساتذہ اور طلبہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ میرے بیٹے کا معاملہ ان خاندانوں کے لیے امید بنے گا جو ایسی ہی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں‘۔
رپورٹس کے مطابق لیو کی حالت بتدریج بہتر ہو رہی ہے تاہم اس کی مکمل بحالی میں ابھی کافی وقت لگے گا۔














