لاہور میں گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے والی ماں اور بچی کی لاشیں طویل اور مشکل ریسکیو آپریشن کے بعد برآمد ہو چکی ہیں، تاہم اس افسوسناک واقعے پر سیاسی بیانات نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے واقعے کو فیک نیوز قرار دینے پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے، جبکہ اس سے قبل صوبائی وزیر اطلاعات بھی اسی نوعیت کا بیان دے چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور، سیوریج لائن میں گرنے والی ماں اور بچی کی لاشیں برآمد، تحقیقات کا آغاز
ایسے وقت میں جب لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں پیش آنے والے گٹر حادثے میں جاں بحق ہونے والی ماں اور بیٹی کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں، پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے اس کے باوجود اس واقعے کو فیک نیوز قرار دے دیا۔
لاہور سیوریج ہول حادثہ! ساری رات آپریشن جاری رہا ہے اور دونوں لاشوں کو ریسکیو کر لیا گیا ہے، تجمان ریسکیو پنجاب
رپورٹ: عارف ملک pic.twitter.com/wEo8Cw3CKl— WE News (@WENewsPk) January 29, 2026
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ صحافیوں کی جانب سے سوال کیے جانے پر ڈپٹی اسپیکر نے حادثے کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹی خبر قرار دیا۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس سے ایک روز قبل صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بھی داتا دربار کے سامنے ماں اور بچی کے مین ہول میں گرنے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو 1122 کی ابتدائی جانچ پڑتال کے بعد کسی ایسے واقعے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:ماں اور بچی کے سانحے پر وزیراعلیٰ مریم نواز شدید رنجیدہ، غفلت کے مرتکب کیخلاف سخت کارروائی کا اعلان
تاہم بعد ازاں خاتون اور کمسن بچی کی لاشیں ملنے کے بعد صورتحال واضح ہو گئی اور حادثے کی تصدیق سامنے آ گئی۔ اس پیش رفت کے باوجود سرکاری سطح پر متضاد بیانات سامنے آنے پر عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، جبکہ واقعے سے متعلق حکومتی مؤقف پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔













