ترکیہ نے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرانے میں کردار ادا کرنے کی پیشکش کردی ہے۔
ترک وزارتِ خارجہ کے مطابق ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے دورے کے موقع پر ترک وزیرِ خارجہ حکان فدان واشنگٹن اور تہران کے درمیان مکالمے کے ذریعے تناؤ کم کرنے کے حوالے سے بات کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی پروازیں متاثر، عالمی ایئرلائنز الرٹ
ترک حکام کا کہنا ہے کہ انقرہ موجودہ صورتحال میں سفارتی رابطوں کے ذریعے کشیدگی میں کمی کے لیے تعاون کرنے کو تیار ہے، جب کہ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات جمعہ کو متوقع ہے۔
دوسری جانب ترکی نے امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت میں اپنی سرحدی سکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے ہنگامی منصوبوں پر غور شروع کر دیا ہے۔
ایک اعلیٰ ترک عہدیدار کے مطابق اگر امریکا ایران پر حملہ کرتا ہے اور وہاں کی حکومت کمزور ہوتی ہے تو ترکی اضافی اقدامات کے تحت سرحدی نگرانی سخت کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے حملہ کیا تو اسرائیل اور امریکی اڈے محفوظ نہیں رہیں گے، ایران کی ٹرمپ کو دھمکی
امریکا نے حالیہ مہینے میں ایران میں ہونے والے احتجاجات پر سخت ردِعمل کے بعد نئی فوجی مداخلت کے امکان کو مسترد نہیں کیا، جب کہ مشرقِ وسطیٰ کے پانیوں میں ایک طیارہ بردار بحری بیڑا بھی تعینات کیا جا چکا ہے۔
نیٹو کا رکن ترکی، جو ایران کے ساتھ 530 کلومیٹر طویل سرحد رکھتا ہے، ماضی میں بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی مخالفت کرتا رہا ہے۔
ترک ایران سرحد کے کچھ حصوں پر 380 کلومیٹر طویل دیوار موجود ہے، تاہم حکام کے مطابق یہ اقدامات ناکافی ثابت ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی میں اضافہ، پاکستان کا ضبط، ذمہ داری اور مذاکرات پر زور
ترک حکام فی الحال بفرزون کی اصطلاح استعمال کرنے سے گریز کررہے ہیں، تاہم منصوبوں میں جدید ٹیکنالوجی پر مبنی سرحدی نظام کی تنصیب اور فوجی نفری میں اضافہ شامل ہے۔













