بسنت کا امتحان

جمعرات 29 جنوری 2026
author image

احمد ولید

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کئی دہائیوں تک لاہور میں بسنت کے دنوں میں چھتوں سے گرنا یا سڑکوں پر پتنگیں لوٹتے ہوئے نوجوانوں اور بچوں کے ساتھ حادثات سنتے دیکھتے رہے ہیں۔ دھاگے سے تیا رہونےوالی ڈور نے کیمیکل اور دھاتی تار جیسے خطرناک ہتھیار کا روپ دھار لیا، جس نے لاتعداد معصوم جانیں لے لیں۔

پھر بسنت کے تاریخی تہوار پر پابندی کی آوازیں زور پکڑنے لگیں۔ آخرکار سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے ازخود نوٹس لے کر بسنت منانے پر پابندی کے احکامات جاری کردئے۔ اس طرح بسنت تاریخ کے صفحات میں گم ہوگئی۔

اگرچہ بسا اوقات بسنت منانے کی مختلف تجاویز سامنے آتی رہیں، جیسے لاہور کے اطراف میں کھلے میدانوں میں پتنگیں اڑانے اور پیچ لگانے کی محدود اجازت ملنی چاہئے، مگر تمام کوششیں ناکام ہو گئیں۔

موجودہ پنجاب حکومت نے کافی بحث و مباحثے کے بعد مختلف قواعد و ضوابط منظور کرکے محدود سطح پر بسنت منانے کی اجازت دے دی، تاکہ لوگ پنجاب کے اس تاریخی تہوار کو ایک بار بھرپور طریقے سے منائیں۔

‘بسنت پالا اڑنت’ یعنی سردی کے بعد موسم بہار کو خوش آمدید کہنے کے لیے لاہور سمیت پورے پنجاب میں اس تہوار کا جشن منایا جاتا تھا۔ بھارتی پنجاب کے مختلف شہروں میں اب بھی بسنت کے موقع پر پتنگیں اڑائی جاتی ہیں۔

بسنت کے روز شوقین افراد ہوا کا رخ دیکھنے کے لیے صبح سویرے گھروں کی چھتوں پرچڑھ جاتے اور بوکاٹا اور موسیقی کا یہ سلسلہ رات تک جاری رہتا۔ مشرف دور سے قبل بسنت عوامی سطح پر اندرون شہر اور گردونواح کے علاقوں میں منائی جاتی تھی۔

پھر اسے سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہوگئی۔ کارپوریٹ کلچر متعارف ہوا اور اندرون شہر میں چھتوں پررات میں بسنت منانے کا رواج شروع ہوا۔ غیرملکی سفارتکاروں اور بیرون ملک مقیم پاکستانی بسنت منانے لاہور پہنچ جاتے۔ اندرون شہر میں چھتیں کرائے پر ملنا شروع ہوگئیں۔ اس طرح بسنت ایک عالمی تہوار بن گیا۔

کارپوریٹ کلچر منسلک ہوتے ہی لاہور کا یہ تہوار بڑی معیشت بن گیا۔ ہزاروں لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ بن گیا۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں حویلیاں، چھتیں اور ہوٹل بک کرکے جشن کا حصہ بن گئیں۔ بیرون ملک سے لوگ خصوصی پروازوں کے ذریعے لاہور کے رخ کرنے لگے۔ چھتیں کرائے پر ملنا شروع ہوگئیں اور بڑے چھوٹے ہوٹلوں میں کمرے ملنا مشکل ہو گئے۔ بسنت سے چند ہفتے قبل پتنگ بازی شروع ہوتی اور فروری کے مارچ اور اپریل تک جاری رہتی۔

پھر اس تہوار کو نظر لگ گئی۔ دھاتی تار اور کیمیکل لگی ڈور اور ہوائی فائرنگ نے شہریوں کی جانیں لینا شروع کردیں۔ لاتعداد خاندانوں کے بچے بسنت کی نذر ہو گئے۔ دھاتی تار سے معصوم بچے اور عام لوگ کرنٹ لگنے، گلے پر ڈور پھرنے کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ موٹرسائیکل سوار سب سے زیادہ کیمیکل ڈور کا شکار ہونے لگے۔ تفریح کا روائیتی تہوار بسنت ایک خونی تہوار میں تبدیل ہو گیا۔ حکومت بے بس نظر آنے لگی۔ عوامی ردعمل شدید سے شدید تر ہونے لگا۔ پتنگ بازی پر پابندی کے مطالبے بڑھنے لگے۔

اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار چودھری نے بسنت سے ہونے والی ہلاکتوں کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے اس پر سخت پابندی کا حکم دے دیا۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف بھی لاہور آکر بسنت منایا کرتے تھے۔ مشرف نے پابندی کی مخالفت کی اور کہا کہ بسنت جیسے تہوار کو سرے سے ختم کرنا کسی صورت قبول نہیں۔ اس دوران حکومت کی جانب سے اپنائی گئی سخت پالیسی بھی کام نہ آئی اور اموات کا سلسلہ جاری رہا۔

سنہ 2006 میں لگنے والی پابندی کو 2007 میں پنجاب اسمبلی سے قانونی شکل دے دی گئی۔ ہزاروں لاکھوں کا روزگار اور بغیر کسی اصول اور ضابطے سے منایا جانے والا تہوار شعبدہ بازوں کے ہاتھوں ختم ہو گیا۔ اس کے بعد حکومت نے پتنگ بازی اور گڈی ڈور سازی کو ناقابل ضمانت جرم قرار دے دیا۔

اس طرح پتنگ سازی کی صنعت سے جڑے لاکھوں مرد اور خواتین کا کاروبار چھن گیا۔ اس کے زمہ دار کوئی اور نہیں اسی شہر کے ایسے باسی ہیں جن کے شیطانی دماغ کی چکربازیوں نے اس تہوار پر کاری ضرب لگائی۔

وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی قیادت میں حکومت نے ایک بار پھر بسنت کا تہوار نئے قواعد و ضوابط کے ساتھ منانے کی اجازت دی ہے جو اس حکومت کے لیے بڑا امتحان ہوگا۔ اگر وضع کردہ ضابطوں پر عمل کرتے ہوئے پرامن طریقے سے بسنت منائی گئی تو یہ روائیتی تہوار ایک بار پھر پنجاب کی ثقافت کا حصہ بن سکتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈپریشن اور انگزائٹی خواتین کو بیماری کے خطرے کے قریب لے جا رہی ہیں

عمران خان کے آنکھوں کے علاج سے متعلق ذاتی معالج ڈاکٹر خرم مرزا کا اہم بیان سامنے آ گیا

صدر زرداری کا قومی کرکٹ ٹیم کی فتح پر اظہارِ مسرت

برطانیہ: جنسی جرائم اور ڈکیتی کے کیسز میں تاریخی اضافہ

اداکارہ علیزے شاہ کا معروف گلوکارہ شازیہ منظور پر بے ایمانی کا الزام

ویڈیو

کیا محمود اچکزئی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کروا پائیں گے؟

 خون جما دینے والی سردی کا توڑ لاندی جو گھروں سے نکل کر ہوٹل تک پہنچ گئی

خیبر پختونخوا میں آج بھی جنرل فیض کی ٹیم بیوروکریسی کے اہم عہدوں پر اور صوبے کی کرتا دھرتا ہے، اختیار ولی خان

کالم / تجزیہ

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

ایک تھا ونڈر بوائے

کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی