پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز(پی آئی اے) کی نجکاری سے متعلق اہم مرحلہ طے پا گیا، جہاں اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران پی آئی اے کے حصول کے لین دین سے متعلق معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:پی آئی اے نجکاری میں حکومت کے ساتھ ہاتھ، شاہد خاقان کی کونسی پیشگوئی درست ثابت ہوئی؟
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے۔
دستاویزات پر حکومتِ پاکستان اور عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کی قیادت میں قائم کنسورشیم نے دستخط کیے۔ یاد رہے کہ اس کنسورشیم نے دسمبر گزشتہ سال پی آئی اے کے 75 فیصد حصص 135 ارب روپے میں خریدنے کی بولی جیتی تھی۔
آج پی آئی اے کی نجکاری کا عمل بخوبی انجام تک پہنچا ہے، وزیراعظم
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ آج پی آئی اے کی نجکاری کا عمل بخوبی انجام تک پہنچا ہے، عارف حبیب اور ان کی ٹیم کو ذاتی طور پر جانتا ہوں، یہ دنیا میں پاکستان کے بہترین بزنس سفیر ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج پی آئی اے کی نجکاری کے معاہدے پر دستخط ہوگئے، میں سمجھتا ہوں کہ پی آئی اے کی پہلی ترجیع مسافروں کے لیے آرام دہ سفر، ان کی عزت، توقیر اور حفاظت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پی آئی اے کے 650 ارب روپے کے قرض کو ’بلیک ہول‘ قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے اپنے معرض وجود میں آنے کے بعد خصوصاً 60کی دہائی میں اپنے عروج پر تھا، مجھے یقین ہے کہ عارف حبیب اور اس کی ٹیم پی آئی اے کو دوبارہ اس کے کھوئے ہوئے مقام پر واپس لے جائے گی۔
اس سے قبل تقریب کے آغاز پر وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے وزیراعظم اور آرمی چیف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں ان دونوں کی رہنمائی اور مکمل تعاون نہ ہوتا تو یہ مرحلہ طے کرنا ممکن نہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ آج کی تقریب موجودہ حکومت کی جانب سے اٹھایا گیا ایک نہایت اہم سنگ میل ہے، پی آئی اے کی نجکاری کا یہ لین دین نہایت مؤثر اور شفاف طریقے سے مکمل کیا گیا، جو حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کا ایک نمایاں حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے نجکاری: عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے میں قومی ایئر لائن کو خرید لیا
ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے تحت کنسورشیم کی جانب سے مجموعی طور پر 180 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی، جو تقریباً 650 ملین ڈالر کے برابر ہے۔ اس رقم میں سے 125 ارب روپے، یعنی 450 ملین ڈالر، براہِ راست پی آئی اے میں لگائے جائیں گے، جبکہ 55 ارب روپے، جو 200 ملین ڈالر بنتے ہیں، حکومت کو ادا کیے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے میں لگایا جانے والا گروتھ کیپیٹل فضائی بیڑے میں توسیع، سروسز میں بہتری، نجی شعبے کے نظم و نسق کے نفاذ اور قومی ایئرلائن کو دوبارہ اس کے سنہری دور کی جانب لے جانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
محمد علی کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کاروبار کے لیے سنجیدہ ہے، اس عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ حکومت کا نجکاری پروگرام جارحانہ ہے، خسارے میں چلنے والے سرکاری اور تجارتی اداروں کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حکومت میں پیچیدہ مالی لین دین کو مؤثر انداز میں ترتیب دینے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔













