فروری 2026 کا اسنو مون سال کا دوسرا مکمل چاند ہو گا، جو اتوار یکم فروری کو اپنے عروج پر پہنچے گا۔ موسمِ سرما کے اس مکمل چاند کی خاص بات یہ ہے کہ یہ آسمان میں نسبتاً زیادہ بلند دکھائی دیتا ہے، جس کی وجہ سے نظارہ خاص طور پر دلکش ہوتا ہے۔
ماہرینِ فلکیات کے مطابق مکمل چاند اس وقت سب سے خوبصورت دکھائی دیتا ہے جب وہ شام کے وقت مشرقی افق پر طلوع ہوتا ہے، سورج غروب ہونے کے فوراً بعد بلیو آور کے دوران چاند کا ابھرتا ہوا منظر نہایت ڈرامائی ہوتا ہے، جو خاص طور پر مغربی امریکا میں نمایاں طور پر دیکھا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: نایاب فلکیاتی مظہر بلیک مون کب اور کیوں رونما ہوتا ہے؟
اسنو مون کے بعد آنے والا نیا چاند ایک اینولر سولر ایکلیپس لے کر آئے گا، جسے رنگ آف فائر سورج گرہن بھی کہا جاتا ہے۔ یہ فلکیاتی مظہر 17 فروری کو دیکھنے کو ملے گا، جب چاند سورج کے 96 فیصد حصے کو ڈھانپ لے گا۔ یہ منظر تقریباً 2 منٹ 20 سیکنڈ تک رہے گا اور انٹارکٹکا کے دور دراز علاقوں سے دیکھا جا سکے گا۔
فل وولف سپر مون کے ایک دن بعد، قریباً مکمل چاند شمالی امریکا کے مشرقی حصے میں ستارے ریگولس کو تقریباً ایک گھنٹے کے لیے اوجھل کر دے گا۔ نیویارک سٹی میں ریگولس رات 8:51 پر چاند کے روشن کنارے کے پیچھے غائب ہو گا اور 9:54 پر دوبارہ نمودار ہو گا۔
اگلا مکمل چاند اور بلڈ مون
اسنو مون 2026 کے 13 مکمل چاندوں میں دوسرا ہو گا۔ اس سال کے دیگر اہم فلکیاتی مناظر میں مارچ میں مکمل چاند گرہن، مئی میں بلیو مون اور نومبر و دسمبر میں سپر مونز شامل ہیں۔
مکمل چاند گرہن کو بلڈ مون اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس دوران زمین کا ماحول سورج کی روشنی کو فلٹر کر کے نیلی شعاعوں کو منتشر کر دیتا ہے، جبکہ سرخ روشنی چاند پر پڑنے سے وہ سرخی مائل یا تانبے جیسی چمک اختیار کر لیتا ہے۔ مشاہدات کے مطابق تقریباً 29 فیصد قمری گرہن مکمل ہوتے ہیں، جبکہ زمین کو عموماً سال میں 2 قمری گرہن کا سامنا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: زمین پر پانی کیسے آیا، چاند کی مٹی سے سائنسدانوں کی پوچھ گچھ
اگلا مکمل چاند 3 مارچ کو نمودار ہو گا، جب سال کا واحد مکمل قمری بلڈ مون گرہن دیکھا جائے گا، جو 58 منٹ تک رہے گا۔ یہ دلکش منظر شمالی امریکا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل کے خطوں سے دیکھا جا سکے گا۔ یہ 2029 تک آنے والا آخری مکمل قمری گرہن بھی ہو گا۔














