ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل مذاکرات اور سفارتی روابط کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
جمعرات کے روز وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ کے لیے بات چیت اور سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی ٹاپ سیکیورٹی آفیشل علی لاریجانی کا دورہ، پاک ایران تعاون مزید مضبوط
وزیراعظم آفس کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں کی بنیاد پر قریبی تعلقات قائم ہیں، اور دونوں ممالک نے دوطرفہ ادارہ جاتی نظام کے تحت اعلیٰ سطح روابط اور مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے تاکہ باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
Spoke with my brother President Dr. Masoud Pezeshkian of Iran today.
We exchanged views on the evolving regional situation and agreed that sustained dialogue and diplomatic engagement are vital for peace, security, and development in our region.
We also reaffirmed our…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) January 29, 2026
اس سے قبل نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور ایران و امریکا کے درمیان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے، جبکہ دونوں ممالک قریبی رابطے میں رہنے پر متفق ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کی امریکا ایران کشیدگی کم کرانے کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش
دفتر خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران سے متعلق قرارداد پر پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ حالیہ دنوں میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے ایران سے متعلق فیکٹ فائنڈنگ مشن کی مدت میں 2 سال کی توسیع کی قرارداد منظور کی تھی، جس کی پاکستان نے مخالفت کی۔
DPM/FM Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshqqDar50 spoke today with Iranian FM Abbas Araghchi @Araghchi.
DPM/FM expressed concern over the evolving regional situation, and underscored that dialogue & diplomacy remain the only viable way forward. Both leaders agreed to remain in… pic.twitter.com/nyOebU0Yxm
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) January 29, 2026
ادھر ایران اور امریکا کے درمیان لفظی جنگ میں بھی شدت آ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات کرے، بصورت دیگر مزید سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی حکام کے مطابق امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کرتے ہوئے یو ایس ایس ابراہم لنکن طیارہ بردار بحری جہاز خطے میں تعینات کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’امریکا ایران کی طاقت کو سمجھنے میں ناکام‘
ایران نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دباؤ اور طاقت کے سائے میں مذاکرات ممکن نہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا، تاہم ایران منصفانہ اور غیر جابرانہ جوہری معاہدے کے لیے آمادہ ہے۔
علاقائی سطح پر بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ حکان فیدان نے امریکا سے ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئی جنگ سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔














