روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام اصولی معاملہ ہے اور روس اسرائیل فلسطین تنازع کے سیاسی حل کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
یہ بات انہوں نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کے دوران کہی، جو سرکاری دورے پر ماسکو پہنچے ہیں۔ کریملن کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال اور دوطرفہ تعاون پر تفصیلی گفتگو کی۔
یہ بھی پڑھیں: روسی صدر نے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کی پیشکش کر دی
روسی صدر کا کہنا تھا کہ فلسطینی ریاست کا قیام اسرائیل کے ساتھ امن اور سلامتی کے ساتھ بقائے باہمی کی بنیاد پر ہونا چاہیے، جس سے خطے میں پائیدار حل اور طویل المدتی استحکام ممکن ہو سکے گا، انہوں نے غزہ میں انسانی صورتحال بہتر بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
ایران سے متعلق کشیدگی پر بات کرتے ہوئے ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ممکنہ حملوں کی دھمکیوں کے بعد روس ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
پیوٹن نے یوکرین بحران میں متحدہ عرب امارات کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کے تبادلے اور سفارتی رابطوں کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنا قابلِ تعریف اقدام ہے۔ انہوں نے ابوظبی میں حالیہ سہ فریقی سکیورٹی مذاکرات کے انعقاد پر اماراتی صدر کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو دھمکی پر روس کا سخت ردعمل سامنے آگیا
کریملن کے مطابق یوکرین اور روس کے درمیان امریکا کی ثالثی میں مذاکرات کے کئی دور 23 اور 24 جنوری کو ابوظبی میں ہوئے، جن کا مقصد جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا تھا۔
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے کہا کہ ان کا ملک روس کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے سیاسی اور سفارتی حل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات علاقائی اور عالمی استحکام میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
کریملن کے مطابق متحدہ عرب امارات عرب دنیا میں روس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات تقریباً تمام شعبوں میں وسعت اختیار کر رہے ہیں۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا کہ دونوں ممالک تعاون کے فروغ میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور یہ دن روس اور اماراتی دوستی کی علامت ہے۔














