وی نیوز کے چیف ایڈیٹر عمار مسعود کا کہنا ہے کہ عمران خان کے طبی معائنے کے بارے میں حکومت کو ان کے اہل خانہ کو مطلع کرنا چاہیے تھا لیکن دوسری جانب کچھ یوٹیوبرز کی جانب سے بانی چیئرمین تحریک انصاف کے صحت کے حوالے سے جو پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے وہ بھی درست نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’عمران خان کو معائنے کے لیے پمز لایا گیا‘، وفاقی وزیر اطلاعات نے تصدیق کردی
سماء ٹی وی کے پروگرام ’ریڈ لائن ود طلعت ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عمار مسعود نے کہا کہ عمران خان کو پمز اسپتال لے جائے جانے کے حوالے سے خبر کو ابتدائی طور پر ظاہر نہ کرنے پر بہرحال حکومت کو بری الذمہ قرار قرار نہیں دیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ پمز اسپتال میں ہمہ وقت سینکڑوں افراد موجود رہتے ہیں اور یہ بات صحافیوں سے بھی چھپی نہیں رہی اور پھر اگر حکومت 5 روز بعد اس بات کی تصدیق کرے تو یہ کوئی سمجھداری کی بات نہیں۔
عمار مسعود نے کہا کہ اگر یہ کسی حکمت عملی کے تحت کیا گیا تو کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہیں تھا لیکن دوسری جانب عمران خان کی صحت کے حوالے سے یوٹیوبرز جو سنسنی پھیلاتے ہیں وہ بھی غیر مناسب بات ہے جس سے تاثر یہ ملتا ہے گویا بانی چیئرمین کی صحت کو بہت ہی سنگین خطرات لاحق ہیں جبکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔
چیف ایڈیٹر وی نیوز نے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ عمران خان کی طبعیت ناساز تھی ان کے بارے میں اہل خاندان کو بتانا چاہیے تھا لیکن یہ جو اڈیالہ جیل کے باہر 70 افراد کھڑے ہیں ان کے دباؤ سے کچھ نہیں ہوگا نہ کوئی ملاقات ہوگی۔
مزید پڑھیے: عمران خان کو اسپتال لائے جانے سے متعلق خبر کی تصدیق یا تردید کی پوزیشن میں نہیں، طلال چوہدری
انہوں نے کہا کہ محض یوٹیوبرز کے سوشل میڈیا پر واویلے اور ہر منگل اور جمعرات کو انقلاب کی نوید سنائی جا رہی ہوتی ہے اور تخت الٹے جا رہے ہوتے ہیں لیکن ایسا کچھ نہیں ہوتا نہ ہوگا کیوں کہ حکومت اگر ملاقات کروائے گی تو ان یوٹیوبرز کے پریشر پر نہیں کروائے گی۔
پروگرام کے اینکر و سینیئر صحافی طلعت حسین کے اس سوال کے جواب میں کہ ’لوگ عمران خان کے لیے خود کیوں نہیں نکلتے ان کو کالز کیوں دینی پڑتی ہیں‘ عمار مسعود نے کہا کہ تحریک انصاف نے کارکنوں و حامیوں کو اتنے ’ٹیکے‘ لگائے ہیں کہ لوگ اب تھک چکے ہیں اور جان چکے ہیں کہ احتجاج کے دوران جب بھی پولیس آجاتی ہے تو سب سے پہلے بھاگنے والی ہماری قیادت ہی ہوتی ہے خواہ وہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ ہوں یا عمران خان کی اہلیہ وہ ہمشیرہ ہوں اور عوام کو ڈنڈے کھانے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان کے ہاتھ میں بیماری کی لکیر نہیں، بانی پی ٹی آئی سے متعلق اوریا مقبول جان کے حیران انکشافات
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیئر صحافی عامر الیاس رانا نے بتایا کہ عمران خان کی آنکھ کے موتیے کا آپریشن ہوا تاہم اس حوالے سے حکومت کو چاہیے تھا کہ عمران خان کے ڈاکٹرز و اہل خاندان کو اڈیالہ جیل یا اسپتال بلا لیتی۔














